اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 264
اصحاب بدر جلد 5 264 اسلام کہتا ہے کہ اس دنیا میں رہو۔اس دنیا کی جو نعمتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں پیدا کی ہیں ان سے فائدہ اٹھاؤ لیکن اللہ تعالیٰ کو نہ بھولو۔وہ ہمیشہ تمہارے سامنے رہنا چاہیے۔فتنوں کی راہ میں ایک روک حضرت عمر۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت قدامہ بن مظعون سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے حضرت عثمان بن مظعون کو پایا۔وہ اپنی سواری کے اوپر تھے۔اور حضرت عثمان اپنی سواری کے اوپر تھے۔آقائیہ نامی گھاٹی پر ان دونوں کی ملاقات ہوئی۔آثایه، ذُو الحلیفہ کے بعد محفہ کے راستے میں مدینہ ستر 77 میل فاصلے پر ہے۔اس کی لوکیشن (location) بتائی گئی ہے۔بہر حال حضرت عمرؓ کی اونٹنی نے حضرت عثمان کی اونٹنی کو بھینچ دیا، ذرا دبایا۔زیادہ قریب ہو گئے تو اونٹنی نے دبا دیا۔رسول اکرم صلی لی کیم کی سوار قافلے کے کافی آگے تھے۔حضرت عثمان بن مظعون نے کہایا غَلَقَ الْفِتْنَةِ ! آپ نے مجھے تکلیف دی ہے۔جب سواریاں رکیں تو حضرت عمر بن خطاب قریب آئے اور کہا اے ابو سائب ! یعنی عثمان بن مظعون کو کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے وہ کون سا نام تھا جس کے ساتھ تم نے مجھے پکارا تھا۔یہ کہہ کر پکارا تھا خلق الْفِتْنَةِ، تو انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم آپ کا وہ نام میں نے نہیں رکھا۔جس نام سے میں نے پکارا تھا وہ میں نے نہیں کہا تھا بلکہ رسول اللہ صلی نیلم نے آپ کا وہ نام رکھا تھا۔پھر کہنے لگے کہ حضور صلی لی کم قافلے کے آگے ہیں اور اس وقت حضور صلی الی یکم آگے چل رہے تھے۔اس کے بعد حضرت عثمان بن مظعونؓ نے انہیں بتایا کہ آگے ہیں آپ بھی پوچھ سکتے ہیں۔پھر بیان کی تفصیل یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ ہمارے پاس سے گزرے یعنی حضرت عمر ہمارے پاس سے گزرے جبکہ ہم رسول اکرم صلی علیکم کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے اور حضور علی لی ہم نے فرمایا یہ شخص غَلَقُ الْفِتْنَةِ ہے۔یعنی فتنے کی راہ میں روک ہے۔یہ کہتے ہوئے آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ تمہارے اور فتنے کے درمیان ایک دروازہ ہو گا جو بہت زیادہ سختی سے بند رہے گا جب تک یہ شخص تمہارے درمیان زندہ رہے گا۔19 یعنی جب تک حضرت عمر کی زندگی ہے کوئی فتنہ اسلام میں نہیں آئے گا اور تاریخ بھی یہی بتاتی الله س 599 ہے۔اس کے بعد ہی زیادہ فتنے شروع ہوئے۔اس جگہ جو حضرت عثمان بن مظعون نے حضرت عمر بن خطاب کے متعلق خَلْقُ الْفِتْنَةِ کے یہ الفاظ بیان کیے ہیں اس کی تفصیل بیان کرتا ہوں۔حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عمرؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا کہ تم میں سے کون فتنے سے متعلق رسول اللہ صلی علیکم کی بات یا درکھتا ہے تو میں نے کہا کہ میں۔ویسے ہی جیسے کہ آپ نے فرمایا تھا۔اسی طرح یا درکھتا ہوں جس طرح آنحضرت صلی ی یکم نے فرمایا تھا۔تو حضرت عمرؓ نے کہا تم آنحضرت صلی علی کم پر یا کہا روایت کرنے پر بہت ہی دلیر ہو۔یعنی بڑ یقین ہے تمہیں اور تم بڑی جرآت سے کام لے رہے ہو۔میں نے کہا کہ آدمی کو ابتلا اس کی بیوی اور اس کے مال اور اس کی اولاد اور اس کے