اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 266
اصحاب بدر جلد 5 266 فوت ہوئے۔بعض کے نزدیک آپ کی وفات غزوہ بدر کے بائیس ماہ کے بعد ہوئی اور آپ جنت البقیع میں دفن ہونے والے پہلے شخص تھے۔جنت البقیع میں پہلے مدفون 601 آپ جنت البقیع میں مدفون ہونے والے پہلے 602 جنت البقیع کی ابتدا کے بارے میں جو تفصیل ملی ہے وہ اس طرح کہ آنحضرت صلی علیم کے مدینہ میں ورود کے بعد وہاں بہت سے قبرستان تھے۔یہودیوں کے اپنے قبرستان ہوا کرتے تھے جبکہ عربوں کے مختلف قبائل کے اپنے اپنے قبرستان تھے۔مدینہ طبیہ چونکہ اس وقت مختلف علاقوں میں بٹا ہوا تھا۔اس لیے ہر قبیلہ اپنے ہی علاقے میں کھلی جگہ پر اپنی میتوں کو دفنادیتا تھا۔قبا کا الگ قبرستان تھا جو زیادہ مشہور تھا گو کہ وہاں چھوٹے چھوٹے کئی اور قبرستان بھی تھے۔قبیلہ بنو ظفر کا اپنا قبرستان بھی تھا اور بنو سلمہ کا اپنا الگ قبرستان تھا۔دیگر قبرستانوں میں بنو ساعدہ کا قبرستان تھا جس کی جگہ بعد میں سوق النبی قائم ہوا۔جس جگہ پر مسجد نبوی تعمیر ہوئی وہاں بھی کھجوروں کے جھنڈ میں چند مشرکین کی قبریں تھیں۔ان تمام قبرستانوں میں بَقِيعُ الْغَرْ قد سب سے پرانا اور مشہور قبرستان تھا۔اور پھر جب رسول اللہ صلی علیکم نے اسے مسلمانوں کے قبرستان کے لیے منتخب کر لیا تو اس کے بعد سے آج تک اسے ایک منفرد اور ممتاز حیثیت حاصل رہی ہے جو ہمیشہ رہے گی۔الله حضرت عبد اللہ بن ابی رافع سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی الی یا کسی ایسی جگہ کی تلاش میں تھے جہاں صرف مسلمانوں کی قبریں ہوں اور اس غرض سے آنحضرت صلی ای ایم نے مختلف جگہوں کو ملاحظہ بھی فرمایا۔جاکے دیکھا۔یہ فخر بقیع الغرقد کے حصے میں لکھا تھا۔رسالت مآب صلی الم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اس جگہ کو یعنی بقیع الغرقد کو منتخب کرلوں۔اسے اس دور میں بَقیعُ الْخَبخَبَہ کہا جاتا تھا۔اس میں بے شمار غرقد کے درخت اور خود رو جھاڑیاں ہوا کرتی تھیں۔مچھروں اور دیگر حشرات الارض کی اس جگہ پہ بھر مار تھی اور مچھر جب اس جگہ گند کی وجہ سے یا جنگل کی وجہ سے اڑتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ دھوئیں کے بادل چھا گئے ہوں۔وہاں سب سے پہلے جن کو دفن کیا گیا اور جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے وہ حضرت عثمان بن مظعون تھے۔رسول اللہ صلی علیم نے ان کی قبر کے سرھانے ایک پتھر نشانی کے طور پر رکھ دیا اور فرمایا یہ ہمارے پیش رو ہیں۔ان کے بعد جب بھی کسی کی فوتیدگی ہوتی تو آنحضرت صلی للی کم سے پوچھتے کہ انہیں کہاں دفن کیا جائے تو آپ صلی یکم فرماتے کہ ہمارے پیش رو عثمان بن مظعون کے قریب۔بقیع عربی میں ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں درختوں کی بہتات ہو ، بہت زیادہ درخت ہوں۔مدینہ طیبہ میں اس مقام کو بَقِيعُ الْغَرَقَد کے نام سے جانا جانے لگا کیونکہ وہاں غرقد کے درختوں کی بہتات تھی۔اس کے علاوہ وہاں دیگر خودرو