اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 188 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 188

اصحاب بدر جلد 5 188 حضرت عبد الرحمن بن عوف کے بیٹے ابراہیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا اے ابن عوف ! تم جنت میں رینگتے ہوئے داخل ہو گے کیونکہ مالدار ہو۔پس راہ خدا میں خرچ کرو تا کہ اپنے قدموں پر چل کر جنت میں داخل ہو سکو۔یہ جو حضرت عائشہ والی پہلی روایت ہے اس سے بھی یہ ملتی جلتی روایت ہے۔تو حضرت عبد الرحمن بن عوف نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! راہ خدا میں کیا خرچ کروں ؟ فرمایا جو موجود ہے خرچ کرو۔عرض کیا یارسول اللہ کیا سارا ؟ فرمایا ہاں۔حضرت عبد الرحمن سیہ ارادہ کر کے نکلے کہ سارا مال راہ خدا میں دے دوں گا۔تھوڑی دیر بعد رسول اللہ صلی الیم نے انہیں بلوا بھیجا اور فرمایا کہ تمہارے جانے کے بعد جبرئیل آئے۔انہوں نے کہا کہ عبد الرحمن کو کہو کہ مہمان نوازی کرے۔مسکین کو کھانا کھلائے۔سوالی کو دے اور دوسروں کی نسبت رشتہ داروں پر پہلے خرچ کرے۔جب وہ ایسا کرے گا تو اس کا مال پاک ہو جائے گا۔412 اور پاک مال، اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایسا خرچ کیا ہو امال جو ہے اس سے پھر گھٹنوں کے بل نہیں بلکہ آپ نے فرمایا کہ پاؤں پر کھڑے ہو کے جنت میں جاؤ گے۔نتیجہ آگے یہی نکلتا ہے۔ایک بار اپنا آدھا مال جو چار ہزار درہم تھا راہ خدا میں دے دیا۔پھر ایک مرتبہ چالیس ہزار درہم۔پھر ایک بار چالیس ہزار دینار راہ خدا میں صدقہ دیا۔ایک دفعہ پانچ صد گھوڑے راہ خدا میں وقف کیے۔پھر دوسری دفعہ پانچ سو 413 اونٹ راہ خدا میں دیے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف کے بیٹے ابو سلمہ روایت کرتے ہیں کہ ہمارے ابا نے امہات المومنین کے حق میں ایک باغیچے کی وصیت فرمائی۔اس باغیچے کی قیمت چار لاکھ درہم تھی۔114 ترکے میں اتنا سونا چھوڑا جو کلہاڑیوں سے کاٹا گیا حضرت عبد الرحمن بن عوف نے راہ خدا میں دینے کے لیے پچاس ہزار دینار کی وصیت کی تھی۔ترکے میں ایک ہزار اونٹ، تین ہزار بکریاں، سو گھوڑے تھے جو بقیع میں چرتے تھے۔مجرف جو مدینے سے تین میل شمال کی جانب ایک جگہ ہے جہاں حضرت عمرؓ کی کچھ جائیداد تھی۔اس مقام پر بیس پانی کھینچنے والے اونٹوں سے آپ زراعت کرتے تھے اور اسی سے گھر والوں کے لیے سال بھر کا غلہ مل جاتا تھا۔ایک روایت میں ہے کہ ترکے میں اتنا سونا چھوڑا جو کلہاڑیوں سے کاٹا گیا یہاں تک کہ لوگوں کے ہاتھوں میں اس سے چھالے پڑ گئے۔415 وفات اور جنت البقیع میں تدفین حضرت عبد الرحمن بن عوف کا انتقال اکتیس ہجری میں ہوا۔بعض کے نزدیک بتیس ہجری میں ہوا۔بہتر 72 72 برس زندہ رہے۔بعض کے نزدیک اٹھہتر برس اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔حضرت عثمان نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ایک قول کے مطابق حضرت زبیر بن العوام نے جنازہ پڑھایا۔416