اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 187
اصحاب بدر جلد 5 187 اس زمین میں سے ان کا حصہ دیا تو حضرت عائشہ نے دریافت فرمایا کہ یہ کس نے بھیجا ہے ؟ میں نے کہا عبد الرحمن بن عوف نے۔تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے فرمایا ہے کہ میرے بعد تم سے حسن سلوک وہی کرے گا جو نہایت درجہ صبر کرنے والا ہو گا۔پھر آپ نے دعا دی کہ اے اللہ ! عبد الرحمن بن عوف کو جنت کے چشمہ سلسبیل کا مشروب پلا - 7 407 ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا میرے بعد میرے اہل خانہ کی خبر گیری کرنے والا شخص سچا اور نیکو کار ہی ہو گا۔چنانچہ عبد الرحمن بن عوف امہات المومنین ہو ان کی سواریوں سمیت لے کر نکلتے۔انہیں حج کراتے اور ان کے کجاووں پر پر دے ڈالتے اور پڑاؤ کے لیے ایسی گھاٹیاں منتخب کرتے جن میں گزر گاہ نہ ہوتی تاکہ بے پردگی نہ ہو اور آزادی سے وہ پڑاؤ کر سکیں۔408 سات سو اونٹوں پر مشتمل اناج اور غلہ کا قافلہ خدا کی راہ میں ایک بار مدینے میں اجناس خوردنی کا قحط تھا۔اسی اثنا میں شام سے سات سو اونٹوں پر مشتمل گندم، آٹا اور خوردنی اشیاء کا قافلہ مدینہ آیا جس سے مدینے میں ہر طرف شور مچ گیا۔حضرت عائشہ نے پوچھا یہ شور کیسا ہے؟ عرض کیا کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف کا سات سو اونٹوں کا قافلہ آیا ہے جس پر گندم آٹا اور کھانے کی اشیاء لدی ہوئی ہیں۔ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی اکرم صلی علیم سے سنا ہے ، آپ فرماتے تھے کہ عبد الرحمن "جنت میں گھٹنوں کے بل داخل ہو گا۔ام المومنین حضرت عائشہ کی یہ روایت جب حضرت عبد الرحمن بن عوف کو پہنچی تو وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اے ماں ! میں آپ کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ یہ سارا غلہ اور خوردنی اشیاء اور یہ سب بار دانہ اور اونٹوں کے پالان تک میں نے راہ خدا میں دے دیے تاکہ میں چل کر جنت میں جاؤں۔409 410 حضرت عبد الرحمن بن عوف کے انفاق فی سبیل اللہ کے بیشتر واقعات صحابہ کے حالات مدوّن کرنے والوں نے جمع کیے ہیں۔اسد الغابہ میں لکھا ہے کہ عبد الرحمن بن عوف خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے تھے۔ایک بار انہوں نے ایک دن میں تیس غلام آزاد۔ایک مرتبہ حضرت عمر کو کچھ روپے کی ضرورت تھی۔انہوں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف سے قرض مانگا۔انہوں نے کہا اے امیر المومنین! آپ مجھ سے ہی کیوں مانگتے ہیں۔آپ بیت المال سے بھی قرض لے سکتے ہیں اور عثمان یا کسی اور صاحب استطاعت سے بھی۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ایسا اس لیے کر تاہوں کہ شاید بیت المال کو رقم واپس کرنا بھول جاؤں اور کسی دوسرے سے لوں تو شاید وہ لحاظ یا کسی اور وجہ سے مجھ سے رقم کی واپسی کا مطالبہ نہ کرے اور میں بھول جاؤں لیکن تم اپنی رقم مجھ سے مانگ کر بھی ضرور واپس لے لو گے۔411 آپس میں بے تکلفی کی یہ حالت تھی اور جب ان کو ضرورت ہوتی تو وہ لے بھی لیا کرتے تھے، لے سکتے تھے۔