اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 176 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 176

اصحاب بدر جلد 5 176 383 پاؤں اکھڑ گئے تو حضرت عبد الرحمن بن عوف رسول اللہ صلی الیکم کے ساتھ ثابت قدم رہے۔غزوۂ احد کے دن حضرت عبد الرحمن بن عوف کو اکیس زخم آئے اور پاؤں میں ایساز خم آیا کہ آپ لنگڑا کر چلتے تھے اور سامنے کے دو دانت بھی شہید ہوئے۔384 سَرِيَّهِ دُوْمَةُ الْجَندل حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ شعبان چھ ہجری میں رسول اللہ صلی نیلم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کی قیادت میں سات سو آدمیوں کو دُومۃ الجندل کی طرف بھیجا۔اپنے دست مبارک سے حضور ملی ایم نے سیاہ رنگ کا عمامہ ان کے سر پر باندھا جس کا شملہ ان کے کندھوں کے درمیان رکھا۔پھر آپ نے فرمایا ابو محمد امجھے دومۃ الجندل کی طرف سے تشویش ناک خبریں آرہی ہیں۔وہاں مدینے پر حملہ کرنے کے لیے لشکر جمع ہو رہا ہے۔تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ادھر روانہ ہو جاؤ۔سات سو مجاہد تمہارے ساتھ جائیں گے۔دُوْمَةُ الجندل پہنچ کر وہاں کے سردار اور اس کے قبیلہ کلب کو پہلے اسلام کی دعوت دینا لیکن اگر لڑائی کی نوبت آئے تو دیکھنا کسی کو دھوکا نہ دینا۔خیانت اور بد عہدی نہ کرنا۔بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا اور خدا کے باغیوں سے دنیا کو پاک کر دینا۔ان احتیاطوں کے ساتھ پھر جنگ کی اجازت ہے۔چنانچہ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے دُومہ پہنچ کر ان کو تین دن تک اسلام کی دعوت دی۔وہ تین دن تک انکار کرتے رہے۔پھر أَصْبَغُ بن عَمرُو كَلِّہی جو عیسائی تھا اور ان کا سردار تھا اس نے اسلام قبول کیا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے رسول اللہ صلی ای کمر کو سارا حال لکھا۔آپ نے فرمایا کہ اس سردار کی بیٹی تماضر سے شادی کر لو۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے اس سے شادی کی اور اس کے ہمراہ مدینہ واپس آئے۔تماضر بعد میں اُمّ أَبُو سَلَمَہ کہلائیں۔حضرت عمر کا جنگ کے لئے نکلنا اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کا یہ کہہ کر روکنے کی التجا کہ اگر 385 آپ قتل ہو گئے تو مجھے اندیشہ ہے کہ پھر مسلمان کبھی تکبیر نہیں پڑھ سکیں گے عمر بن عبد العزیز بیان کرتے ہیں کہ چودہ ہجری میں جنگ جشر کے موقعے پر حضرت عمررؓ کو جب حضرت ابو عبید بن مسعودؓ کی شہادت کی اطلاع ملی۔یہ جو جنگ جسر ہے پہلے بھی یہ بیان ہو چکا ہے۔فارسیوں کے ایک ہاتھی نے ان کو کچل دیا تھا۔بہر حال جب اطلاع ملی اور معلوم ہوا کہ اہل فارس نے آلِ کسری میں سے ایک شخص کو تلاش کر کے اپنا بادشاہ بنایا ہے تو آپ نے مہاجرین اور انصار کو دعوتِ جہاد دی اور مدینہ سے روانہ ہو کر حیراز مقام پر قیام کیا۔صرار مدینہ کے ایک پہاڑ کا نام ہے۔یہ مدینے سے تین میل کے فاصلے پر عراق کے راستے پر واقع ایک جگہ ہے۔بہر حال وہاں آپ نے قیام کیا اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ کو آگے روانہ کیا تا کہ وہ آغوض پہنچ جائیں۔آپ نے میمنہ یعنی فوج کا جو دایاں