اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 175
اصحاب بدر جلد 5 175 اور اس سے باتیں کرتا یہاں تک کہ بدر کا دن آگیا۔میں امیہ کے پاس سے گزرا۔وہ اپنے بیٹے علی بن امیہ کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا۔میرے پاس کئی زرہیں تھیں جنہیں میں نے حاصل کیا تھا۔میں ان کو لیے جا رہا تھا۔اس نے مجھے دیکھ کر آواز دی کہ اے عبد عمر و ! میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔تب اس نے کہا اے عبد الہ ! میں نے کہا ہاں کیا کہتے ہو۔اس نے کہا کیا میں تمہارے لیے ان زرہوں سے جن کو تم لیے جا رہے ہو زیادہ بہتر نہیں ہوں ؟ میں نے کہا اگر ایسا ہی ہے تو آجاؤ۔میں نے زر ہیں وہاں پھینک دیں یعنی اسے پناہ دینے کے لیے اور اس کا اور اس کے بیٹے علی کا ہاتھ پکڑ لیا تو وہ کہنے لگا آج کے جیسا دن میرے دیکھنے میں نہیں آیا۔جیسا کہ آج دن گزرا ہے میں نے کبھی نہیں دیکھا۔بہر حال وہ کہتے ہیں کہ میں ان دونوں کو ساتھ لے کر چل دیا۔میں باپ بیٹے کے بیچ میں ان کا ہاتھ پکڑے ہوئے چلا جار ہا تھا۔امیہ نے مجھ سے پوچھا کہ اے عبدالہ اتم میں وہ کون ہے جس کے سینے پر شتر مرغ کا پر بطور نشان آویزاں تھا۔میں نے کہا وہ حمزہ بن عبد المطلب ہے۔اس نے کہا ہماری یہ حالت اسی کی بدولت ہے۔یہ جو ہمارا بر احال ہوا ہے اس کی بدولت ہے۔بہر حال کہتے ہیں میں ان کو لیے چلا جار ہا تھا کہ بلال نے اسے میرے ہمراہ دیکھ لیا۔یہ امیہ مکے میں حضرت بلال کو اذیتیں دیتا تھا تا کہ وہ اسلام ترک کر دیں۔وہ ان کو مکے کی صاف چٹان پر جب وہ دھوپ سے خوب تپ جاتی لے جاتا اور اس پر ان کو پیٹھ کے بل لٹا دیتا۔پھر ایک بڑے پتھر کے متعلق حکم دیتا جس پر وہ پتھر ان کے سینے پر رکھ دیا جاتا اور پھر کہتا کہ جب تک تو محمد کے دین کو ترک نہیں کرے گا تجھے سزا ملتی رہے گی مگر باوجود اس عذاب کے بلال یہی کہتے احد ، احد۔یعنی وہ ایک ہے ، وہ ایک ہے۔اس لیے اب جب اس کی نظر اس پر پڑی یعنی حضرت بلال کی امیہ پر جب نظر پڑی تو کہنے لگے کہ امیہ بن خلف کفر کا سرغنہ ہے۔میں نجات نہ پاؤں اگر یہ بچ جائے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا اے بلال ! یہ دونوں میرے قیدی ہیں۔بلال نے پھر کہا میں نجات نہ پاؤں اگر یہ بچ جائے۔حضرت عبد الرحمن نے حضرت بلال سے کہا اے ابن سوداء ! تم سنتے ہو۔بلال نے پھر کہا میں نجات نہ پاؤں اگر یہ بچ جائے۔پھر حضرت بلال نے نہایت زور سے چلا کر کہا اے اللہ کے انصار ! یہ کفار کا سرغنہ امیہ بن خلف ہے۔میں ہلاک ہو جاؤں اگر یہ بچ جائے۔ان کی اس آواز پر لوگوں نے ہمیں ہر طرف سے گھیر لیا اور قید سا کر لیا۔میں اسے بچانے لگا۔ایک شخص نے اس کے بیٹے پر تلوار ماری اور وہ گر پڑا۔اس وقت امیہ نے اس زور سے چیخ ماری کہ میں نے اس جیسی کبھی نہیں سنی۔میں نے کہا بھاگ جاؤ مگر بھاگ نہیں سکتے۔اللہ کی قسم ! میں تیرے کسی کام نہیں آسکتا۔اتنے میں حملہ آوروں نے ان دونوں پر اپنی تلواروں سے حملہ کیا یہاں تک کہ ان دونوں کا کام تمام کر دیا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ بلال پر رحم کرے۔میری زرہیں بھی گئیں اور قیدی کو انہوں نے زبر دستی مجھ سے چھین لیا۔382 غزوہ احد میں ثابت قدمی دکھانے والے حضرت عبد الرحمن بن عوف جنگ اُحد میں بھی شامل ہوئے۔غزوہ احد کے دن جب لوگوں کے