اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 177 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 177

اصحاب بدر جلد 5 177 بازو تھا اس پر حضرت عبد الرحمن بن عوف کو اور میسرہ جو فوج کا بایاں بازو تھا اس پر زبیر بن عوام کو مقرر فرمایا اور حضرت علی کو مدینہ میں اپنا قائمقام مقرر کر آئے تھے۔حضرت عمرؓ نے لوگوں سے مشورہ۔سب نے آپ کو فارس جانے کا مشورہ دیا۔یہ قافلہ جب روانہ ہوا تھا تو صر ار آنے تک حضرت عمررؓ نے کسی سے مشورہ نہیں کیا تھا۔یہاں پہنچ کر آپ نے مشورہ کیا۔حضرت طلحہ واپس آئے تو وہ بھی ان لوگوں کے ہم خیال تھے۔پہلے حضرت طلحہ وہاں نہیں تھے۔جب واپس آئے تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے آگے جانا چاہیے۔مگر حضرت عبد الرحمن ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے آپ کو جانے سے روکا اور روکنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا کہ آج سے پہلے میں نے نبی کریم صلی الی یوم کے سوا کسی پر اپنے ماں باپ کو قربان نہیں کیا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا کروں گا مگر آج کہتا ہوں کہ اے وہ کہ جس پر میرے ماں باپ فدا ہوں اس معاملے کا آخری فیصلہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔حضرت عمر جو اس وقت خلیفہ تھے آپ نے ان کو یہ جواب دیا۔آپ وہاں یعنی مزار کے مقام پر رک جائیں اور ایک بڑے لشکر کو روانہ فرما دیں۔شروع سے لے کر اب تک آپ دیکھ چکے ہیں کہ آپ کے لشکروں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کیا فیصلہ رہا ہے۔اگر آپ کی فوج نے شکست کھائی تو وہ آپ کی شکست کی مانند نہ ہو گی۔انہوں نے کہا، جواز پیش کیا کہ اگر ابتدا میں آپ قتل ہو گئے یا شکست کھا گئے تو مجھے اندیشہ ہے کہ پھر مسلمان کبھی تکبیر نہیں پڑھ سکیں گے اور نہ ہی لا الہ الا اللہ کی شہادت دے سکیں گے۔اس وقت جب یہ ساری باتیں ہو رہی تھیں تو حضرت عمرہ کسی شخص کی تلاش میں تھے جس کو فوج کا کمانڈر بنا کر بھیجا جائے۔اسی دوران ان کی خدمت میں، حضرت عمر کی خدمت میں حضرت سعد کا خط آیا۔حضرت سعد اس وقت نجد کے صدقات پر مامور تھے۔حضرت عمرؓ نے عبد الرحمن بن عوف کی باتیں سن کے فرمایا اچھا پھر مجھے کوئی آدمی بتلاؤ کس کو بنایا جائے ؟ کس کے سپرد کیا جائے ؟ حضرت عبد الرحمن نے کہا کہ آدمی تو آپ کو مل گیا۔حضرت عمرؓ نے پوچھا وہ کون ہے ؟ حضرت عبد الرحمن نے کہا کچھار کا شیر سعد بن مالک یعنی یہ بہت بہادر انسان ہے۔بڑا اچھا کمانڈر ہے۔اس کو کمانڈر بنا کے بھیجیں۔باقی لوگوں نے بھی اس مشورے کی تائید کی۔یہ بھی تاریخ طبری کا حوالہ ہے۔آنحضرت صلی یکی از مین اور جاگیر عطا فرمانا 386 آنحضرت صلی علیم نے مدینے میں مختلف قبیلوں اور صحابہ کو رہائش کے لیے جگہ عطا کی۔حضرت عبد الرحمن بن عوف کے قبیلے کو مسجد نبوی کے عقب میں کھجوروں کے ایک جھنڈ میں رہائش کے لیے زمین عطا کی۔پھر حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت عمر کو بطور جاگیر بھی زمین عطا فرمائی۔آلِ عمر سے یہ جاگیر پھر حضرت زبیر نے خرید لی۔حضرت عمر کی اولاد سے پھر یہ جاگیر حضرت زبیر نے خرید لی۔حضور صلی یم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف سے وعدہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب مسلمانوں کے ہاتھ پر رض