اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 170
اصحاب بدر جلد 5 170 368 بدل کر عبد الرحمن رکھ دیا۔ان کا تعلق قبیلہ بنو زہرہ بن کلاب سے تھا۔سهله بنت عاصم بیان کرتی ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف سفید ، خوبصورت آنکھوں والے، لمبی پلکوں، لمبے ناک والے تھے۔سامنے کے اوپر والے دانت میں سے کچلی والے دانت لمبے تھے۔کانوں کے نیچے تک بال تھے۔گردن لمبی، ہتھیلیاں مضبوط اور انگلیاں موٹی تھیں۔369 ابراہیم بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن دراز قد ، سفید رنگ جس میں سرخی کی آمیزش تھی، خوبرو، نرم جلد والے تھے۔خضاب نہیں لگاتے تھے۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پاؤں سے لنگڑے تھے۔آپ کی یہ لنگڑاہٹ اُحد کے بعد ہوئی کیونکہ اُحد کے میدان میں راہ حق میں زخمی ہوئے تھے۔عشرہ مبشرہ میں سے 370 حضرت عبد الرحمن بن عوف ان دس اصحاب میں شامل تھے جن کو ان کی زندگی میں ہی جنت کی بشارت مل گئی تھی۔آپ ان اصحاب شوری کے چھ افراد میں سے ایک ہیں جن کو حضرت عمر نے خلافت کے انتخاب کے لیے مقرر فرمایا اور ان افراد کے بارے میں حضرت عمر نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی علی کی اپنی وفات کے وقت ان سب سے راضی تھے۔371 شراب کو اپنے اوپر حرام کرنے والے حضرت عبد الرحمن بن عوف عام الفیل کے دس سال بعد پیدا ہوئے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف ان قلیل افراد میں سے تھے جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں بھی شراب کو اپنے اوپر حرام کیا ہوا تھا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف ابتدائی آٹھ اسلام لانے والوں میں سے ہیں۔جب حضور صلی اغلی ہم نے دار ارقم کو تبلیغی مرکز بنایا تو آپ اس سے بھی پہلے حضرت ابو بکر کی تبلیغ سے اسلام قبول کر چکے تھے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف حبشہ کی طرف جانے والی دونوں ہجرتوں میں شامل تھے۔373 372 ہجرت مدینہ ، مؤاخات اور اخوت و ایثار کا ایک قابل رشک جذبہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں جب ہم مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی الم نے مجھے اور سعد بن ربیع کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔تو سعد بن ربیع نے کہا کہ میں انصار میں سے زیادہ مالدار ہوں۔یہ روایت سعد بن ربیع کے ذکر میں بھی آچکی ہے۔3 لیکن بہر حال یہاں بھی ذکر کرتا ہوں سو میں تقسیم کر کے نصف مال آپ کو دے دیتا ہوں اور میری دو بیویوں میں سے جو آپ پسند کریں میں آپ کے لیے اس سے دستبردار ہو جاؤں گا۔جب اس کی عدت گزر جائے تو اس سے آپ نکاح کر لیں۔یہ سن کر حضرت عبد الرحمن نے حضرت سعد سے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اہل اور مال میں آپ کے لیے برکت رکھ دے۔مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔کیا