اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 171 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 171

171 اصحاب بدر جلد 5 یہاں کوئی بازار ہے جس میں تجارت ہوتی ہو۔حضرت سعد نے بتایا کہ قینقاع کا بازار ہے۔حضرت عبد الرحمن یہ معلوم کر کے صبح سویرے وہاں گئے۔وہاں کاروبار کیا اور انہوں نے وہاں پنیر اور گھی منافع کے طور پر بچایا اور اسے لے کر حضرت سعد کے گھر والوں کے پاس واپس پہنچے۔پھر اسی طرح ہر صبح آپ وہاں بازار میں جاتے اور کاروبار کرتے رہے اور منافع کماتے رہے۔ابھی کچھ عرصہ گزرا تھا کہ حضرت عبد الرحمن آئے اور ان پر زعفران کا نشان تھا تو رسول اللہ صلی علی رام نے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی ہے ؟ عرض کیا: جی ہاں۔آپ نے فرمایا کس سے ؟ انہوں نے کہا کہ انصار کی ایک عورت سے۔فرمایا کتنا مہر دیا ہے ؟ عرض کیا ایک گٹھلی کے برابر سونا یا کہا سونے کی گٹھلی۔نبی علی الم نے فرمایا کہ ولیمہ بھی کرو خواہ ایک بکری کا ہی سہی۔174 حضرت عبد الرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو اس حالت میں بھی دیکھا کہ اگر میں کوئی پتھر بھی اٹھاتا تو امید کرتا کہ نیچے سونا یا چاندی ملے گی۔یعنی اللہ تعالیٰ نے تجارت میں اتنی 375 برکت رکھ دی تھی۔تمام غزوات میں شمولیت حضرت عبد الرحمن بن عوف غزوۂ بدر، أحد سمیت تمام غزوات میں آنحضرت صلی علیکم کے ساتھ شریک رہے۔376 جنگ بدر اور ایک آرزو۔۔۔۔۔۔جنگ بدر کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ میں بدر کی لڑائی میں صف میں کھڑا تھا کہ میں نے اپنے دائیں بائیں نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو انصاری لڑکے ہیں۔ان کی عمریں چھوٹی ہیں۔میں نے آرزو کی کہ کاش میں ایسے لوگوں کے درمیان ہو تا جو ان سے زیادہ جوان اور تنو مند ہوتے۔اتنے میں ان میں سے ایک نے مجھے ہاتھ سے دبا کر پوچھا کہ چا کیا ابو جہل کو پہچانتے ہو ؟ میں نے کہا ہاں بھیجے ! تمہیں اس سے کیا کام ہے ؟ اس نے کہا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی امریکہ کو گالیاں دیتا ہے اور اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ پاؤں تو میری آنکھ سے اس کی آنکھ جدانہ ہو گی جب تک ہم دونوں میں سے وہ نہ مر جائے جس کی مدت پہلے مقدر ہے۔مجھے اس سے بڑا تعجب ہوا۔حضرت عبد الرحمن کہتے ہیں پھر دوسرے نے مجھے ہاتھ سے دبایا اس نے بھی مجھے اسی طرح پوچھا۔ابھی تھوڑا عرصہ گذرا ہو گا کہ میں نے ابو جہل کو لوگوں میں چکر لگاتے دیکھا۔میں نے کہا دیکھو یہ ہے تمہار اوہ ساتھی جس کے متعلق تم نے مجھ سے دریافت کیا تھا۔یہ سنتے ہی وہ دونوں جلدی سے اپنی تلواریں لیے اس کی طرف لیکے اور اسے اتنا مارا کہ اس کو جان سے مار ڈالا اور پھر لوٹ کر رسول اللہ صلی علیکم کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔آپ صلی علیہم نے پوچھا تم میں سے کس