اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 88 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 88

اصحاب بدر جلد 5 88 ناراض ہوئے اور اس صحابی کو ملامت فرمائی، تنبیہ کی کہ تمہارا کیا کام ہے کہ تم خدا کے رسولوں کی ایک دوسرے پر فضیلت بیان کرتے پھرو اور پھر آپ نے موسیٰ کی ایک جزوی فضیلت بیان کر کے یہودی کی دلداری فرمائی۔یہود کی شرارتیں مگر باوجود اس دل دارانہ سلوک کے ، نرمی کے سلوک کے ، شفقت کے سلوک کے یہودی اپنی شرارت پر ترقی کرتے گئے اور بالآخر یہود کی طرف سے ہی جنگ کا باعث پیدا ہوا اور ان کی جو قلبی ، دلی عداوت تھی ان کے سینوں میں سمانہ سکی۔وہیں نہ رہ سکی بلکہ باہر نکل آئی اور یہ اس طرح پر ہوا کہ ایک مسلمان خاتون بازار میں ایک یہودی کی دکان پر کچھ سودا خریدنے کے لیے گئی۔بعض شریر یہودیوں نے جو اس وقت اس دکان پر بیٹھے ہوئے تھے اسے نہایت او باشانہ طریقے پر چھیڑا اور خود دکان دار نے یہ شرارت کی کہ عورت کے نہ بند کے کونے کو اس کی بے خبری میں کسی کانٹے وغیرہ سے اس کی پیٹھ کے کپڑے سے ٹانک دیا۔کوئی چیز ، کوئی hook لگا ہوا ہو گا یا کانٹا ہو گا۔کوئی چیز پڑی ہو گی اس سے اس کے کپڑے کو وہاں ٹانک دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ عورت ان کے اوباشانہ طریق کو دیکھ کر وہاں سے اٹھ کر لوٹنے لگی تو وہ ننگی ہو گئی، کپڑا اتر گیا۔اس پر اس یہودی دکاندار اور اس کے ساتھیوں نے زور سے ایک قہقہہ لگایا اور ہنسنے لگ گئے۔مسلمان خاتون نے شرم کے مارے ایک چیخ ماری اور مدد چاہی۔اتفاق سے ایک مسلمان اس وقت قریب موجود تھا۔وہ لپک کر موقعے پر پہنچا اور پھر وہاں آپس میں لڑائی شروع ہو گئی۔یہودی دکاندار مارا گیا۔جس پر چاروں طرف سے اس مسلمان پر تلواریں برس پڑیں۔انہوں نے حملہ کر دیا اور وہ غیور مسلمان وہیں ڈھیر ہو گیا۔وہیں قتل ہو گیا، شہید ہو گیا۔مسلمانوں کو اس واقعے کا علم ہوا تو پھر ان کی بھی غیرت قومی بھڑ کی۔ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور دوسری طرف یہودی جو اس واقعہ کو لڑائی کا بہانہ بنانا چاہتے تھے ہجوم کر کے اکٹھے ہو گئے اور ایک بلوے کی صورت پیدا ہو گئی۔یہود کا اعلان جنگ آنحضرت صلی علی کرم کو اطلاع ہوئی تو آپ نے رؤسائے بنو قینقاع کو جمع کر کے کہا کہ یہ طریق اچھا نہیں۔تم ان شرارتوں سے باز آجاؤ اور خد اسے ڈرو۔انہوں نے بجائے اس کے کہ اظہارِ افسوس کرتے، ندامت کرتے، شرمندگی کا احساس کرتے اور معافی طلب کرتے، مانگنے والے بنتے انہوں نے سامنے سے نہایت ہی تکبر سے متمر دانہ جواب دیے اور پھر وہی دھمکی دہرائی کہ بدر کی فتح پر غرور نہ کرو۔جب ہم سے مقابلہ ہو گا تو پتالگ جائے گا کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں۔بہر حال ناچار آپ صحابہ کی ایک جمعیت کو ساتھ لے کر بنو قینقاع کے قلعوں کی طرف روانہ ہو گئے۔اب یہ آخری موقع تھا کہ وہ اپنے افعال پر پریشان ہوتے۔جب آنحضرت صلی کم صحابہ کو لے کر گئے تو یہودیوں کو چاہیے تھا کہ جو کچھ انہوں نے زیادتی کی تھی، اس پر پریشان ہوتے اور صلح کی طرف