اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 87 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 87

اصحاب بدر جلد 5 87 حکم دیا گیا۔اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ جب جنگ بدر ہو چکی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مسلمانوں کو باوجود ان کی قلت اور بے سر و سامانی کے قریش کے ایک بڑے جزار لشکر پر نمایاں فتح دی اور مکے کے بڑے بڑے عمائد خاک میں مل گئے تو مدینے کے یہودیوں کی مخفی آتش حسد جو تھی وہ بھڑک اٹھی۔انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کھلم کھلا نوک جھونک شروع کر دی۔مجلسوں میں بر ملا طور پر یہ کہنا شروع کر دیا کہ قریش کے لشکر کو شکست دینا کون سی بڑی بات تھی۔ہمارے ساتھ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا مقابلہ ہو تو ہم بتادیں کس طرح لڑا کرتے ہیں۔حتی کہ ایک مجلس میں انہوں نے خود آنحضرت صلی لی ایم کے منہ پر اسی قسم کے الفاظ کہے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ جنگ بدر کے بعد جب آنحضرت صلی غیر تم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ایک دن یہودیوں کو جمع کرکے ان کو نصیحت فرمائی اور اپنا دعویٰ پیش کر کے اسلام کی طرف دعوت دی۔آپ کی اس پر امن اور ہمدردانہ تقریر کار و سائے یہود نے ان الفاظ میں جواب دیا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تم شاید چند قریش کو قتل کر کے مغرور ہو گئے ہو اور وہ لوگ لڑائی کے فن سے ناواقف تھے۔اگر ہمارے ساتھ تمہارا مقابلہ ہو تو تمہیں پتا لگ جائے گا کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں۔اور یہود نے صرف اس عام دھمکی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ لکھا ہے، ایسا معلوم ہو تا تھا کہ انہوں نے آنحضرت صلی ا یم کے قتل کے بھی منصوبے شروع کر دیے تھے۔کیونکہ روایت آتی ہے کہ جب ان دنوں میں طلحہ بن براء جو ایک مخلص صحابی تھے فوت ہونے لگے تو انہوں نے وصیت کی کہ اگر میں رات کو مروں تو نماز جنازہ کے لیے آنحضرت صلی للی علم کو اطلاع نہ دی جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ میری وجہ سے آپ صلی للی کم پر یہود کی طرف سے کوئی حادثہ گزر جائے۔یعنی آپ رات کے وقت جنازے کے لیے تشریف لائیں اور یہود کو آپ پر حملہ کرنے کا موقع ملے۔بہر حال جنگ بدر کے بعد یہود نے کھلم کھلا شرارت شروع کر دی اور چونکہ مدینے کے یہود میں بنو قینقاع سب سے زیادہ طاقتور اور بہادر تھے اس لیے سب سے پہلے ان ہی کی طرف سے عہد شکنی ہوئی۔چنانچہ مؤرخین لکھتے ہیں کہ مدینے کے یہودیوں میں سب سے پہلے بنو قینقاع نے اس معاہدے کو توڑا جو ان کے اور آنحضرت علی ایم کے درمیان ہوا تھا اور بدر کے بعد انہوں نے بہت سرکشی شروع کر دی اور بر ملا طور پر بغض اور حسد کا اظہار کیا اور عہد و پیمان کو توڑ دیا۔پھر بھی یہود کی دلداری۔۔۔مگر باوجود اس قسم کی باتوں کے مسلمانوں نے اپنے آقا آنحضرت صلی علیم کی ہدایت کے ماتحت ہر طرح سے صبر سے کام لیا اور اپنی طرف سے کوئی پیش دستی نہیں ہونے دی بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ اس معاہدے کے بعد جو یہود کے ساتھ ہوا تھا آنحضرت صلی علیہ کا خاص طور پر یہود کی دلداری کا خیال رکھتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ ایک مسلمان اور ایک یہودی میں کچھ اختلاف ہو گیا۔یہودی نے حضرت موسیٰ کی تمام انبیاء پر فضیلت بیان کی۔صحابی کو اس پر غصہ آیا اور اس نے یہودی کے ساتھ کچھ سختی کی اور آنحضرت صلی اللہ ہم کو افضل الرسل بیان کیا۔جب آنحضرت صلی لی یکم کو اس واقعے کی اطلاع ہوئی تو آپ