اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 89 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 89

اصحاب بدر جلد 5 89 قدم بڑھاتے مگر وہ سامنے سے جنگ پر آمادہ ہو گئے۔بہر حال جنگ کا اعلان ہو گیا اور اسلام اور یہودیت کی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل پر نکل آئیں۔اس زمانہ کے دستور کے مطابق جنگ کا ایک طریق یہ بھی ہو تا تھا کہ اپنے قلعوں میں محفوظ ہو کر بیٹھ جاتے تھے اور فریق مخالف قلعوں کا محاصرہ کر لیتا تھا۔جو حملہ آور ہو تا تھا قلعے کا محاصرہ کر لیتا تھا۔اُسے گھیر لیتا تھا۔موقعے موقعے پر گاہے گاہے ایک دوسرے کے خلاف حملے ہوتے رہتے تھے۔حتی کہ یا تو محاصرہ کرنے والی فوج قلعے پر قبضہ کرنے سے مایوس ہو کر محاصرہ اٹھا لیتی تھی، جو گھیر او کیا ہو تا تھا وہ ختم کر دیتی تھی اور چلی جاتی تھی اور یہ پھر قلعے کے اندر کے جو لوگ ہوتے تھے ، محصورین جو تھے ان کی فتح سمجھی جاتی تھی کہ ان کو فتح ہو گئی اور یا پھر یہ ہو تا تھا کہ محصورین، جو قلعے کے اند ر تھے ، جو محصور ہوئے ہوئے تھے وہ مقابلے کی تاب نہ لا کر قلعے کا دروازہ کھول کر اپنے آپ کو فاتحین کے سپرد کر دیتے تھے۔اس موقعے پر بھی بنو قینقاع نے یہی طریق اختیار کیا اور اپنے قلعوں میں بند ہو کر بیٹھ گئے۔یہود کی جلا وطنی۔آنحضرت صلی اللی علم کی طرف سے ایک نرم سزا آنحضرت صلی الہ وسلم نے ان کا محاصرہ کیا، قلعے کو ارد گرد سے گھیر لیا اور پندرہ دن تک بر ابر محاصرہ جاری رہا۔آخر جب بنو قینقاع کا سارا زور اور غرور ٹوٹ گیا تو انہوں نے اس شرط پر اپنے قلعوں کے دروازے کھول دیے کہ ان کے اموال مسلمانوں کے ہو جائیں گے مگر ان کی جانوں اور ان کے اہل و عیال پر مسلمانوں کا کوئی حق نہیں ہو گا۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے اس شرط کو منظور فرمالیا کیونکہ گوموسوی شریعت کی رو سے یہ سب لوگ واجب القتل تھے۔ایسی صورت میں تو تورات جو موسوی شریعت ہے یہی کہتی ہے کہ یہ لوگ قتل کر دیے جائیں اور معاہدے کی رو سے ان لوگوں پر موسوی شریعت کا فیصلہ ہی جاری ہونا چاہیے تھا مگر اس قوم کا یہ پہلا جرم تھا اور آنحضرت صلی علیکم کی رحیم و کریم طبیعت انتہائی سزا کی طرف جو ایک آخری علاج ہوتا ہے ابتدائی قدم پر مائل نہیں ہو سکتی تھی۔ابتدا تھی لیکن دوسری طرف ایسے بد عہد اور معاند قبیلہ کا مدینہ میں رہنا بھی ایک مارِ آستین کے پالنے سے کم نہیں تھا یعنی بغل میں سانپ پالا ہوا ہے۔آستین میں سانپ پالنے کے برابر تھا خصوصاجب اوس اور خزرج کا ایک منافق گروہ پہلے سے مدینہ میں موجود تھا اور بیرونی جانب سے بھی تمام عرب کی مخالفت نے مسلمانوں کے ناک میں م کر رکھا تھا۔ایسے حالات میں آنحضرت صلی علی ظلم کا ہی فیصلہ ہو سکتا تھا کہ بنو قینقاع مدینے سے چلے جائیں۔یہ سزا ان کے جرم کے مقابلے میں اور اس کے علاوہ اس زمانہ کے حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک بہت نرم سزا تھی اور دراصل اس میں صرف خود حفاظتی کا پہلو مڈ نظر تھا۔مقصد یہ تھا کہ مدینے کے لوگوں کی، مدینے کے مسلمانوں کی حفاظت ہو جائے ورنہ عرب کی خانہ بدوش اقوام کے نزدیک، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب یہ لکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک تو نقل مکانی کوئی بڑی بات نہیں تھی، پھرتے رہتے تھے، ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے رہتے تھے۔