اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 521 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 521

تاب بدر جلد 4 521 عرض کیا یارسول اللہ ! آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں۔ہم لوگ اس لڑائی کے لیے کافی ہیں۔آپ واپس تشریف لے جائیں۔رسول اللہ صلی اللی یم نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ وہ گالیاں دے رہے ہیں اور تم یہ نہیں چاہتے کہ میرے کان میں وہ گالیاں پڑیں۔حضرت علی نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ بات تو یہی ہے۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا پھر کیا ہوا اگر وہ گالیاں دیتے ہیں۔موسیٰ نبی تو ان کا اپنا تھا اُس کو اِس سے بھی زیادہ انہوں نے تکلیفیں پہنچائی تھیں۔یہ کہتے ہوئے آپ یہود کے قلعوں کی طرف چلے گئے مگر یہود دروازے بند کر کے قلعہ بند ہو گئے اور مسلمانوں کے ساتھ لڑائی شروع کر دی حتی کہ ان کی عور تیں بھی لڑائی میں شریک ہوئیں۔چنانچہ قلعہ کی دیوار کے نیچے کچھ مسلمان بیٹھے تھے کہ ایک یہودی عورت نے اوپر سے پتھر پھینک کر ایک مسلمان کو مار دیا۔لیکن کچھ دن کے محاصرہ کے بعد یہود نے یہ محسوس کر لیا کہ وہ لمبا مقابلہ نہیں کر سکتے۔تب ان کے سرداروں نے رسول اللہ صلی علیم سے خواہش کی کہ وہ ابولبابہ انصاری کو، جو اُن کے دوست اور اوس قبیلہ کے سردار تھے، ان کے پاس بھجوائیں تاکہ وہ ان سے مشورہ کر سکیں۔آپ نے ابو لبابہ کو بھجوا دیا۔ان سے یہود نے یہ مشورہ پوچھا کہ کیا محمد رسول اللہ صل الم کے اس مطالبہ کو کہ فیصلہ میرے سپرد کرتے ہوئے تم ہتھیار پھینک دو ہم یہ مان لیں ؟“ یہود نے پوچھا۔" ابو لبابہ نے منہ سے تو کہا 'ہاں' لیکن اپنے گلے پر اس طرح ہاتھ پھیرا جس طرح قتل کی علامت ہوتی ہے۔رسول اللہ صلی علیکم نے اس وقت تک اپنا کوئی فیصلہ ظاہر نہیں کیا تھا مگر ابو لبابہ نے اپنے دل میں یہ سمجھتے ہوئے کہ ان کے اس جرم کی سزا “ جو یہودیوں نے جرم کیا ہے اس کی سزا سوائے قتل کے اور کیا ہو گی، بغیر سوچے سمجھے اشارہ کے ساتھ ان سے ایک بات کہہ دی جو آخر ان کی تباہی کا موجب ہوئی“ یعنی بنو قریظہ قبیلے کی۔”چنانچہ یہود نے کہہ دیا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی علیکم کا فیصلہ ماننے کو تیار نہیں۔اگر وہ آپ کا فیصلہ مان لیتے تو دوسرے یہودی قبائل کی طرح ان کو زیادہ سے زیادہ یہی سزادی جاتی کہ ان کو مدینہ سے جلاوطن کر دیا جاتا مگر ان کی بد قسمتی تھی۔انہوں نے کہا ہم محمد رسول اللہ صلی للی کم کا فیصلہ ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ ہم اپنے حلیف قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ کا فیصلہ مانیں گے۔جو فیصلہ وہ کریں گے ہمیں منظور ہو گا لیکن اس وقت یہود میں اختلاف ہو گیا۔“ آپس میں اختلاف ہو گیا۔”یہود میں سے بعض نے کہا کہ ہماری قوم نے غداری کی ہے“ واضح ہے کہ ہم نے غداری کی ہے اور مسلمانوں کے رویہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا مذہب سچا ہے وہ لوگ اپنا مذہب ترک کر کے اسلام میں داخل ہو گئے۔“ یہ جنہوں نے اختلاف کیا تھا۔” ایک شخص عمرو بن سعدی نے جو اس قوم کے سرداروں میں سے تھا اپنی قوم کو ملامت کی اور کہا کہ تم نے غداری کی ہے کہ معاہدہ توڑا ہے اب یا مسلمان ہو جاؤ یا جزیہ پر راضی ہو جاؤ۔یہود نے کہانہ مسلمان ہوں گے نہ جزیہ دیں گے کہ اس سے قتل ہونا اچھا ہے۔پھر ان سے اس نے کہا میں تم سے بری ہوں۔“ جب ان کو سمجھایا اور نہیں سمجھے تو اس نے کہا پھر میں تم سے بری ہوں میں تمہارے ساتھ نہیں ” اور یہ کہہ کر قلعہ سے نکل کر باہر چل دیا۔جب وہ قلعہ سے باہر نکل رہا تھا تو مسلمانوں کے ایک دستہ نے جس کے سردار محمد بن مسلمہ تھے اسے دیکھ لیا اور اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے ؟ اس نے بتایا کہ میں فلاں ہوں۔اس پر محمد بن مسلمہ نے فرمایا۔اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنِي إِقَالَةٌ الله