اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 522 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 522

صحاب بدر جلد 4 522 عَشَرَاتِ الْكِرَامِ۔یعنی آپ سلامتی سے چلے جائیے اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی“ حضرت محمد بن مسلمہ نے دعا کی کہ الہی مجھے شریفوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے نیک عمل سے کبھی محروم نہ کیجیو۔یعنی یہ شخص چونکہ اپنے فعل پر اور اپنی قوم کے فعل پر پچھتاتا ہے تو ہمارا بھی اخلاقی فرض ہے کہ اسے معاف کر دیں۔اس لیے میں نے اسے گرفتار نہیں کیا اور جانے دیا ہے۔خدا تعالیٰ مجھے ہمیشہ ایسے ہی نیک کاموں کی توفیق بخشتا ر ہے۔کوئی ظلم کا ارادہ نہیں تھا۔”جب رسول اللہ صلی للی کم کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے محمد بن مسلمہ گو سرزنش نہیں کی پوچھا نہیں کہ کیوں تم نے نہیں اس کو پکڑا کہ کیوں اس یہودی کو چھوڑ دیا بلکہ اس کے فعل کو سراہا۔“ آپ نے اس کی اس بات کی تعریف کی کہ تم نے بڑا اچھا کیا۔سعد بن معاذ بطور حکم یه۔۔۔۔واقعات انفرادی تھے۔بنو قریظہ بحیثیت قوم اپنی ضد پر قائم رہے۔“ گو اِکا دُکا واقعات ایسے تھے، چند شخص ایسے تھے جو اس سے، بنو قریظہ کے فیصلوں سے اختلاف کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمانوں سے معاہدہ کیا جائے ، ان کی بات مانی جائے لیکن یہ انفرادی واقعات تھے۔بحیثیت قوم وہ اس بات پر ضد کر رہے تھے اور اس بات پر قائم رہے کہ رسول کریم صلی علیکم کو حکم نہ مانیں۔” اور رسول کریم صلی علیم کو حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے سعد کے فیصلہ پر اصرار کیا۔“ انہوں نے یہ پسند نہیں کیا کہ رسول کریم صلی علی نیم کے فیصلے کو مانیں اور ان کو فیصلہ کرنے کے لیے حکم کے طور پر مقرر کر دیں بلکہ انہوں نے کہا کہ سعد ہمارا فیصلہ کرے گا۔رسول کریم صلی علیم نے بھی ان کے اس مطالبہ کو مان لیا۔سعد کو جو جنگ میں زخمی ہو چکے تھے اطلاع دی کہ تمہارا فیصلہ بنو قریظہ تسلیم کرتے ہیں“ اس لیے آ کر فیصلہ کرو۔اس تجویز کا اعلان ہوتے ہی اوس قبیلہ کے لوگ جو بنو قریظہ کے دیر سے حلیف چلے آئے تھے وہ سعد کے پاس دوڑ کر گئے اور انہوں نے اصرار کرنا شروع کیا کہ چونکہ خزرج نے اپنے حلیف یہودیوں کو ہمیشہ سز ا سے بچایا ہے اس لیے آج تم بھی اپنے حلیف قبیلہ کے حق میں فیصلہ دینا۔سعد ز خموں کی وجہ سے سواری پر سوار ہو کر بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوئے اور ان کی قوم کے افراد ان کے دائیں بائیں دوڑتے جاتے تھے اور سعد سے اصرار کرتے جاتے تھے کہ دیکھنا بنو قریظہ کے خلاف فیصلہ نہ دینا۔مگر سعد نے صرف یہی جواب دیا کہ جس کے سپر دفیصلہ کیا جاتا ہے وہ امانت دار ہوتا ہے۔اسے دیانت سے فیصلہ کرنا چاہئے۔میں دیانت سے فیصلہ کروں گا۔جب سعد یہود کے قلعہ کے پاس پہنچے جہاں ایک طرف بنو قریظہ قلعہ کی دیوار سے کھڑے سعد کا انتظار کر رہے تھے اور دوسری طرف مسلمان بیٹھے تھے تو سعد نے پہلے اپنی قوم سے پوچھا کیا آپ لوگ وعدہ کرتے ہیں کہ جو میں فیصلہ کروں گا وہ آپ لوگ قبول کریں گے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔پھر سعد نے بنو قریظہ کو مخاطب کر کے کہا کیا آپ لوگ وعدہ کرتے ہیں کہ جو فیصلہ میں کروں وہ آپ لوگ قبول کریں گے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔پھر شرم سے دوسری طرف دیکھتے ہوئے نیچی نگاہوں سے اس طرف اشارہ کیا جدھر رسول الله صلی ایام تشریف رکھتے تھے اور کہا ادھر بیٹھے ہوئے لوگ بھی یہ وعدہ کرتے ہیں ؟“ یعنی