اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 520 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 520

تاب بدر جلد 4 520 کے قبیلہ کے لوگ بگڑ کر بولے کہ جاؤ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ہمارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے۔“ ہم نے کوئی معاہدہ نہیں کیا۔” یہ الفاظ سن کر صحابہ کا یہ وفد وہاں سے اٹھ کر چلا آیا اور سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ نے آنحضرت صلی ال یکم کی خدمت میں حاضر ہو کر مناسب طریق پر آنحضرت صلی علیکم کو حالات سے اطلاع دی۔1177 بنو قریظہ کی غداری کی سزا کا خدائی حکم بہر حال اس وقت تو ان کی یہ حرکت مسلمانوں کے لیے بڑا دھچکا تھی۔چاروں طرف سے مکے کے کفار نے مدینے کو گھیر ہو ا تھا۔کفارِ مکہ سے جنگ کی حالت کی وجہ سے اس قبیلے کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں ہو سکتی تھی لیکن جنگ کے اختتام پر جب شہر میں واپس آئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی للی کلم کو کشفی رنگ میں بنو قریظہ کی غداری اور بغاوت کی سزا دینے کا بتایا۔یہ حکم ہوا کہ ان کو سزا ملنی چاہیے۔اس پر آپ صلی علی کرم نے عام اعلان فرمایا کہ بنو قریظہ کے قلعوں کی طرف روانہ ہو جائیں اور نماز عصر وہیں پہنچ کر ادا ہو اور آپ نے حضرت علی کو صحابہ کے ایک دستے کے ساتھ فوراً آگے روانہ کر دیا۔اس جنگ کی تفصیل کچھ لمبنی ہے جس میں حضرت سعد بن معاذ کا بھی آخر پر فیصلہ کرنے میں کردار ہے۔اب وقت نہیں۔اس لیے آئندہ ان شاء اللہ یہ تفصیل بیان کروں گا۔جیسا کہ گذشتہ خطبے میں ذکر کیا تھا کہ جنگ احزاب کے بعد بنو قریظہ کی غداری کی سزا کا خدائی حکم آپ صلی للی کم کو ہو ا۔چنانچہ ان سے جنگ ہوئی اور پھر بنو قریظہ نے جنگ بندی کر کے حضرت سعد سے فیصلہ کروانے پر رضامندی کا اظہار کیا۔چنانچہ حضرت سعد نے فیصلہ کیا۔اس غزوہ کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ 1178 ” ہیں دنوں کے بعد مسلمانوں نے اطمینان کا سانس لیا یعنی جنگ احزاب کے بعد ”مگر اب بنو قریظہ کا معاملہ طے ہونے والا تھا۔ان کی غداری ایسی نہیں تھی کہ نظر انداز کی جاتی۔رسول کریم صلی للی نے واپس آتے ہی اپنے صحابہ سے فرمایا کہ گھروں میں آرام نہ کرو بلکہ شام سے پہلے پہلے بنو قریظہ کے قلعوں تک پہنچ جاؤ۔اور پھر آپ نے حضرت علی کو بنو قریظہ کے پاس بھجوایا کہ وہ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے معاہدہ کے خلاف یہ غداری کیوں کی ؟ بجائے اس کے کہ بنو قریظہ شر مندہ ہوتے یا معافی مانگتے یا کوئی معذرت کرتے ، انہوں نے حضرت علی اور ان کے ساتھیوں کو برابھلا کہنا شروع کر دیا اور رسول اللہ صلی یکم اور آپ کے خاندان کی مستورات کو گالیاں دینے لگے اور کہا ہم نہیں جانتے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا چیز ہیں۔ہمارا ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں۔حضرت علی ان کا یہ جواب لے کر واپس کوئے تو اتنے میں رسول اللہ صلی علی یوم صحابہ کے ساتھ یہود کے قلعوں کی طرف جارہے تھے۔چونکہ یہود گندی گالیاں دے رہے تھے اور رسول اللہ صلی علیم کی بیویوں اور بیٹیوں کے متعلق بھی ناپاک کلمات بول رہے تھے حضرت علی نے اس خیال سے کہ آپ کو ان کلمات کے سننے سے تکلیف ہو گی،