اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 23
اصحاب بدر جلد 4 23 ہے میں اسے نہیں دیکھتا۔تو کسی نے کہا وہ منافق ہے۔ایک اور صحابی کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا کہ وہ تو منافق ہے۔اللہ اور اس کے رسول سے اس کو محبت نہیں ہے اس لیے وہ نہیں آیا۔اس پر رسول اللہ صلی الکریم نے فرمایا ایسا مت کہو۔کیا تمہیں علم نہیں کہ اس نے لا إِلهَ إِلَّا اللہ کا اقرار کیا ہے۔وہ اس اقرار سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی چاہتا ہے۔اس نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ہم تو بخدا اس کی دوستی اور اس کی باتیں منافقوں ہی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آگ اس شخص پر حرام کر دی ہے جس نے لا إلهَ إِلَّا اللہ کا اقرار کیا جس سے وہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی چاہتا ہو۔حضرت محمود بن ربیع کہتے تھے کہ میں نے یہ بات کچھ اور لوگوں سے بیان کی جن میں رسول اللہ صلی اللی علم کے ساتھی حضرت ابو ایوب انصاری بھی تھے۔وہ اس جنگ میں تھے جس میں وہ ملک روم میں فوت ہوئے اور یزید بن معاویہ ان کے سر دار تھے۔تو حضرت ابو ایوب نے میری بات کا انکار کیا اور کہا کہ بخدا میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ صلی علیم نے بھی ایسا کہا ہو جو تم نے بیان کیا ہے۔یعنی کہ آگ اس پہ حرام ہوئی جو صرف لا اله الا اللہ کہے۔بہر حال کہتے ہیں کہ یہ بات مجھ پر بہت گراں گزری۔میں اس بات سے بڑا پریشان تھا۔میں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے اوپر ایک منت مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے سلامت رکھا اور اس جنگ سے واپس لوٹا تو یہ بات میں حضرت عتبان بن مالک سے پوچھوں گا بشر طیکہ میں نے ان کی قوم کی مسجد میں ان کو زندہ پایا۔چنانچہ میں لوٹا اور حج یا عمرہ کا احرام باندھا۔پھر میں چل پڑا یہاں تک کہ مدینہ آیا اور بنو سالم کے محلے میں گیا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عتبان بوڑھے ہو گئے ہیں اور آپ کی بینائی جاتی رہی ہے۔آپ اپنی قوم کو نماز پڑھا رہے تھے۔جب نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے انہیں سلام کیا اور انہیں بتایا کہ میں کون ہوں۔پھر میں نے ان سے وہ بات پوچھی تو انہوں نے اس کو اسی طرح بیان کیا جس طرح کہ پہلی دفعہ مجھ سے بیان کیا تھا۔5 جس نے لا الہ الا اللہ پڑھا اس پر آگ حرام 65 کہ ہاں یہ ٹھیک ہے۔میں نے خودر سول اللہ صلی علیم سے سنا ہے کہ جس نے لا إلهَ إِلَّا اللہ پڑھا اس پر آگ حرام ہو گئی لیکن حضرت ابو ایوب اس کو نہیں مانتے تھے۔اس پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی اپنی رائے لکھی ہے کہ حدیث میں یہی آتا ہے کہ من قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَبْتَغِي بِذلِكَ وَجْهَ الله - اس پوری حدیث کا ترجمہ پڑھ دیتا ہوں۔اس میں یہ بھی وضاحت آجائے گی۔یعنی محمود بن ربیع روایت کرتے ہیں کہ میں نے عتبان بن مالک سے یہ سنا کہ رسول اللہ العلیم لله لی لی یہ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص پر دوزخ کی آگ حرام کر دی ہوئی ہے جو سچی نیت سے خدا کی رضا کی خاطر لا اله الا اللہ کا اقرار کرتا ہے لیکن جب میں نے یہ روایت ایک ایسی مجلس میں بیان کی جس میں ابو ایوب انصاری صحابی بھی موجود تھے تو ابو ایوب نے اس روایت سے انکار کیا اور کہا خدا کی قسم ! میں ہر گز نہیں خیال کر سکتا کہ رسول اللہ صلی علی یم نے یہ بات فرمائی ہو۔پھر آگے مرزا بشیر