اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 22
اصحاب بدر جلد 4 22 22 آنحضرت کے خیمے کے باہر ننگی تلوار لیے تمام رات پہرہ دیتے رہے اور خیمے کے چاروں طرف گھومتے رہے۔جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی علیم نے حضرت ابو ایوب کو خیمہ کے باہر دیکھا تو آپ صلی علیم نے ان سے فرمایا: اے ابو ایوب کیا بات ہے ؟ انہوں نے عرض کی یارسول اللہ ! میں اس عورت سے آپ کے متعلق خوفزدہ ہوا کیونکہ اس کا باپ اور اس کا شوہر اور اس کی قوم کے لوگ قتل ہوئے ہیں اور یہ کفر سے نئی نئی نکلی ہے۔اس لیے میں رات بھر آپ کی حفاظت کے خیال سے پہرہ دیتا رہا۔اس پر آپ صلی المیہ یکم نے حضرت ابو ایوب انصاری کے حق میں دعا فرمائی کہ اللهم احفظ آبَا أَيُّوبَ كَمَا بَاتَ يَحْفَظْنِي کہ اے اللہ ! ابوایوب کی حفاظت فرما جس طرح اس نے پوری رات میری حفاظت کرتے ہوئے گزاری۔امام سهیلی کہتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللی علم کی اس دعا کے مطابق حضرت ابوایوب کی حفاظت فرمائی یہاں تک کہ رومی آپ کی قبر کی حفاظت کرتے اور وہ آپ کے وسیلے سے پانی مانگتے تو بارش ہوتی۔64 نبی صلی نام کا ایک صحابی کے گھر میں نماز پڑھانا حضرت محمود کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جو رسول اللہ صلی العلیم کے ساتھ جنگ بدر میں موجود تھے۔کہتے تھے کہ میں اپنی قوم بنو سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا اور میرے اور ان کے درمیان نالہ تھا۔جب بارشیں ہو تیں تو ان کی مسجد کی طرف عبور کر کے جانا میرے لیے مشکل ہو تا۔اس لیے میں رسول اللہ صلی ال یکم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ سے عرض کیا کہ میں اپنی بینائی کمزور پاتا ہوں اور وہ نالہ جو میرے اور میری قوم کے درمیان ہے جب بارشیں آتی ہیں بہنے لگتا ہے اور وہ میرے لیے عبور کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس لیے میری خواہش ہے کہ آپ صلی علی ایم آئیں اور میرے گھر میں ایسی جگہ نماز پڑھیں جسے میں نماز کی جگہ بنالوں۔رسول اللہ صلی ایم نے فرمایا کہ میں آؤں گا۔پھر رسول اللہ صلی اللی کم اور حضرت ابو بکر دن چڑھے میرے پاس آئے اور رسول اللہ صلی علیم نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔میں نے اجازت دی۔آپ بیٹھے نہیں اور آپ صلی علیہ ہم نے فرمایا کہ اپنے گھر میں سے آپ کون سی جگہ پسند کرتے ہیں کہ میں وہاں نماز پڑھوں ؟ آنحضرت صلی علیہ ہم نے ان سے پوچھا کہ تم نے نماز پڑھنے کے لیے بلایا تھا تو کونسی جگہ ہے جہاں تم چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟ میں نے آپ صلی للہ ہم کو اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں چاہتا تھا کہ آپ نماز پڑھیں۔رسول اللہ صلی المی کم کھڑے ہو گئے اور اللہ اکبر کہا اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی۔آپ نے دور کعتیں پڑھائیں۔پھر سلام پھیرا اور جس وقت آپ نے سلام پھیرا ہم نے بھی سلام پھیرا اور میں نے آپ کو خَزیرہ یعنی گوشت اور آٹے کا ایک کھانا ہے وہ کھانے کے لیے روک لیا جو آپ کے لیے تیار ہو رہا تھا۔محلے والوں نے سنا کہ رسول اللہ صلی علیکم میرے گھر میں ہیں تو ان میں سے کچھ لوگ بھاگے آئے یہاں تک کہ گھر میں بہت سے آدمی ہو گئے۔ان میں سے ایک آدمی نے کہا مالک کہاں