اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 24

24 بدر جلد 4 66 احمد صاحب یہ لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں حضرت ابو ایوب انصاری نے ایک ایسی حدیث کو جو اصول روایت کے لحاظ سے صحیح تھی۔جو حدیث بیان کرنے کے روایت کے اصول ہیں اس لحاظ سے صحیح تھی۔لیکن حضرت ابو ایوب انصاری نے اپنی درایت کی بنیاد پر یعنی اپنی سمجھ اور اپنے لحاظ سے جس کو وہ صحیح سمجھتے تھے اس کو بنیاد رکھ کر قبول کرنے سے انکار کر دیا اور پھر میاں بشیر احمد صاحب یہ فرماتے ہیں کہ گویہ ممکن ہے کہ حضرت ابو ایوب انصاری کا استدلال درست نہ ہو مگر بہر حال یہ حدیث اس بات کو ثابت کرتی ہے۔اب یہ بات حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ صحابہ یو نہی ہر حدیث کو، بات کو نہیں مان لیا کرتے تھے بلکہ وہ بھی غور کرتے تھے، تحقیق کرتے تھے۔تو وہ لکھتے ہیں کہ ” بہر حال یہ حدیث اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ صحابہ یونہی کو رانہ طور پر ہر روایت کو قبول نہیں کر لیتے تھے بلکہ درایت وروایت ہر دو کے اصول کے ماتحت پوری تحقیق کر لینے کے بعد قبول کرتے تھے۔بخاری کی اس حدیث کی شرح میں حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ حضرت محمود بن ربیچ سے جب انہوں نے یعنی ابو ایوب انصاری نے یہ روایت سنی تو انہوں نے انکار کیا۔بعض کا خیال ہے کہ ان کے انکار کی وجہ یہ تھی کہ خالی لا اله الا اللہ کا اقرار آگ سے محفوظ نہیں رکھ سکتا جب تک اعمال صالحہ اس کے ساتھ نہ ہوں۔یہ ثابت شدہ اسلامی مسئلہ ہے۔ٹھیک ہے۔بالکل اسی طرح ہوتا ہے پھر آگے شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ مگر يبتغي بذلك وجه الله کا جملہ بتا رہا ہے کہ یہ اقرار توحید کس قسم کا ہے۔یعنی جو دل سے چاہتے ہوئے خدا کی رضا کی خاطر کلمہ پڑھتا ہے لا اله الا اللہ کہتا ہے اس کے لیے آگ حرام ہے۔تو پھر شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت محمود نے دوبارہ تحقیق اس خیال سے کی کہ شاید وہ بعض الفاظ ضبط نہ کر سکے ہوں اور پھر جو دوبارہ تحقیق کی تو دوبارہ یہی ثابت ہوا کہ وہ الفاظ درست تھے جو روایت تھی۔پھر آگے لکھتے ہیں کہ کسی کے ایمان یا نفاق سے متعلق لوگوں کے سامنے اظہارِ رائے نامناسب ہے۔کسی کو یہ کہہ دینا کہ منافق ہے یا اس کا ایمان کمزور ہے یہ غلط چیز ہے کیونکہ آنحضرت صلی الیم نے اس موقعے پر ابن دخشن کی نسبت نکتہ چینی ناپسند فرمائی تھی۔آپ نے نا پسند فرمایا کہ اس طرح پبلک میں کہا جائے۔اس قسم کی نکتہ چینی بجائے اصلاح کے فتنہ وفساد کا موجب ہو جاتی ہے۔رسول اللہ صلى ال علوم کس طرح سر دھوتے تھے ایک روایت میں بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت مِسْوَر بن فَخَرَمَه نے أَبْوَاءُ مقام پر مسئلہ غسل میں اختلاف کیا۔حضرت عبد اللہ بن عباس نے کہا محرم اپنا سر دھو سکتا ہے اور حضرت مسور نے کہا کہ محرم اپنا سر نہیں دھو سکتا۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس نے مجھے حضرت ابو ایوب انصاری کے پاس بھیجا۔میں نے انہیں دو لکڑیوں کے درمیان نہاتے ہوئے پایا۔ان پر کپڑے سے پر وہ کیا گیا تھا۔میں نے ان کو السلام علیکم کہا تو انہوں نے فرمایا کون ہے ؟ میں نے کہا عبد اللہ بن تین۔حضرت عبد اللہ بن عباس نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں آپ سے پوچھوں کہ رسول پر 67