اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 21
21 اصحاب بدر جلد 4 جب رسول اللہ صلی علیکم کے پاس کھانا پیش کیا جاتا آپ اس میں سے تناول فرماتے اور اپنا بچا ہوا کھانا میری طرف بھیج دیتے۔ایک دن آپ نے بچا ہوا کھانا بھیجا جس میں سے آپ نے نہیں کھایا تھا کیونکہ اس میں لہسن تھا میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا یہ حرام ہے ؟ آپ صلی علیم نے فرمایا کہ نہیں لیکن میں اس کی بو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہوں تو ابو ایوب نے عرض کیا کہ میں بھی نا پسند کرتا ہوں جو آپ نا پسند فرماتے ہیں۔60 ایک دوسری روایت میں جو مسند احمد بن حنبل کی ہے، یہ واقعہ یوں بیان ہوا ہے۔ابوایوب انصاری سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی ہی کم ہمارے گھر کی نچلی منزل میں فروکش ہوئے اور میں بالا خانے میں تھا۔ایک مرتبہ بالا خانے میں پانی گر گیا تو میں اور اُتم ایوب ایک چادر لے کر پانی خشک کرنے لگے اس ڈر سے کہ وہ پانی ٹپک کر نبی کریم صلی املی کام پر نہ گرنے لگے۔پھر میں ڈر تا ڈرتا نبی کریم صلی للی کم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یار سول اللہ ! ہمارے لیے مناسب نہیں کہ ہم آپ کے اوپر رہیں۔سی لینک بالا خانے میں منتقل ہو جائیں۔چنانچہ نبی کریم صلی علیم کے ارشاد پر آپ کا سامان بالا خانے میں منتقل کر دیا گیا اور آپ کا سامان بہت ہی مختصر تھا۔پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !۔آپ مجھے کھانا بھیجتے تو میں جائزہ لیتا اور جہاں آپ کی انگلیوں کے نشان دیکھتا میں اپنا ہاتھ وہیں رکھتا لیکن آج جو کھانا آپ نے مجھے بھیجا ہے اسے جب میں نے دیکھا تو مجھے آپ کی انگلیوں کے نشان اس میں نظر نہیں آئے۔رسول اللہ صلی اللی کرم نے فرمایا یہ بات صحیح ہے۔دراصل اس میں پیاز تھا۔یہاں لہسن کی بجائے پیاز کا بیان ہوا ہے۔میں نے نا پسند کیا کہ اسے کھاؤں اس فرشتے کی وجہ سے جو میرے پاس آتا ہے۔البتہ تم لوگ اسے کھاؤ۔61 تمام غزوات میں شمولیت حضرت ابوایوب انصاری کو رسول اللہ صلی الی ایم کے ساتھ غزوہ بدر ، غزوہ احد اور غزوہ خندق سمیت تمام غزوات میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔62 بدر کے روز صفیں بناتا حضرت ابوایوب انصاری بیان کرتے ہیں کہ ہم نے بدر کے روز صفیں بنائیں تو ہم میں سے بعض لوگ صف سے آگے نکل گئے۔رسول اللہ صلی اللہ ہم نے ان لوگوں کی طرف دیکھ کر فرمایا: میرے ساتھ، میرے ساتھ۔3 یعنی میرے پیچھے رہو۔میرے سے آگے نہ نکلو۔636 حضرت صفیه کار خصتانہ اور ساری رات باہر پہرہ دینا حضرت صفیہ کے رخصتانے کی رات کا ذکر ہے۔گو یہ پہلے ایک ذکر میں مختصر بیان کر چکا ہوں لیکن دوبارہ بیان کر دیتا ہوں۔جب حضرت صفیہ کا رخصتانہ ہوا تو اس رات حضرت ابوایوب انصاری