اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 18
ناب بدر جلد 4 قائم فرمائی۔56 18 نبی صل الم کی مدینہ میں تشریف آوری اور ان کے گھر میں قیام جب رسول اللہ صلی لیہ کی ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ مسجد نبوی اور اپنے گھروں کی تعمیر تک حضرت ابو ایوب انصاری کے گھر میں قیام فرمار ہے۔57 سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے آنحضرت صلی للی علم کے قیام کے واقعے کو یوں بیان کیا ہے کہ: بنو نجار میں پہنچ کر پھر یہ سوال در پیش تھا کہ آپ کس شخص کے ہاں مہمان ٹھہریں۔قبیلہ کا ہر شخص خواہشمند تھا کہ اسی کو یہ فخر حاصل ہو، بلکہ بعض لوگ تو جوش محبت میں آپ کی اونٹنی کی باگوں پر ہاتھ ڈال دیتے تھے۔اس حالت کو دیکھ کر آپ نے فرمایا۔”میری اونٹنی کو چھوڑ دو کہ یہ اس وقت مامور ہے۔“ یعنی جہاں خدا کا منشا ہو گا وہاں یہ خود بیٹھ جائے گی اور یہ کہتے ہوئے آپ نے بھی اس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دیں۔اونٹنی آگے بڑھی اور تھوڑی دور خراماں خراماں چلتی ہوئی جب اس جگہ میں پہنچی جہاں بعد میں مسجد نبوئی اور آنحضرت صلیلی کیم کے حجرات تعمیر ہوئے اور جو اس وقت مدینہ کے دو بچوں کی افتادہ زمین تھی تو بیٹھ گئی ، لیکن فورا ہی پھر اٹھی اور آگے کی طرف چلنے لگی۔مگر چند قدم چل کر پھر لوٹ آئی اور اسی جگہ جہاں پہلے بیٹھی تھی دوبارہ بیٹھ گئی۔آنحضرت صلى لم نے فرمایا هَذَا إِنْ شَاءَ اللهُ الْمَنْزِلُ یعنی معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی منشا میں یہی ہماری مقام گاہ ہے اور پھر خدا سے دعا مانگتے ہوئے اونٹنی سے نیچے اتر آئے اور دریافت فرمایا کہ اپنے آدمیوں میں سے یہاں سے قریب ترین گھر کس کا ہے۔“ یعنی مسلمانوں میں سے۔”ابو ایوب انصاری فور الپک کر آگے ہو گئے اور عرض کیا۔یارسول اللہ ! میراگھر ہے اور یہ میرا دروازہ ہے۔تشریف لے چلیے۔آپ نے فرمایا: اچھا جاؤ اور ہمارے لیے کوئی ٹھہرنے کی جگہ تیار کرو۔ابوایوب انصاری فوراً اپنے مکان کو ٹھیک ٹھاک کر کے آگئے اور آنحضرت صلی ا ہم ان کے ساتھ اندر تشریف لے گئے۔یہ مکان دو منزلہ تھا۔ابو ایوب چاہتے تھے کہ آپ اوپر کی منزل میں قیام فرمائیں لیکن آپ نے اس خیال سے کہ ملاقات کے لیے آنے جانے والے لوگوں کو آسانی رہے نچلی منزل کو پسند فرمایا اور وہاں فروکش ہو گئے۔رات ہوئی تو ابو ایوب اور ان کی بیوی کو ساری رات اس خیال سے نیند نہیں آئی کہ رسول اللہ صلی علی یکم نیچے ہیں اور ہم آپ کے اوپر ہیں اور مزید اتفاق یہ ہو گیا کہ رات کو چھت پر ایک پانی کا برتن ٹوٹ گیا اور ابوایوب نے اس ڈر سے کہ پانی کا کوئی قطرہ نیچے نہ ٹپک جاوے جلدی سے اپنا لحاف پانی پر گرا کر اسے خشک کر دیا۔صبح ہوئی تو وہ آنحضرت صلی اللی کم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بکمال اصرار آپ کی خدمت میں اوپر کی منزل میں تشریف لے چلنے کی درخواست کی۔آپ نے پہلے تو تامل کیا، لیکن بالآخر ابو ایوب کے اصرار کو دیکھ کر رضامند ہو گئے۔اس مکان میں آپ نے