اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 19
19 5866 اصحاب بدر جلد 4 سات ماہ تک یا ابن اسحاق کی روایت کی رو سے ماہ صفر سن 2 ہجری تک قیام فرمایا۔گو یا جب تک مسجد نبوی اور اس کے ساتھ والے حجرے تیار نہیں ہو گئے آپ اسی جگہ یعنی حضرت ابو ایوب انصاری کے مقام میں مکان میں ہی مقیم رہے۔ابوایوب آپ کی خدمت میں کھانا بھجواتے تھے اور پھر جو کھانا بچ کر آتا تھا وہ خود کھاتے تھے اور محبت و اخلاص کی وجہ سے اسی جگہ انگلیاں ڈالتے تھے جہاں سے آپ نے کھایا ہوتا تھا۔دوسرے اصحاب بھی عموما آپ کی خدمت میں کھانا بھیجا کرتے تھے۔اس واقعے کو حضرت مصلح موعودؓ نے بھی بیان فرمایا ہے۔بعض فقرے، بعض باتیں نئی ہوتی ہیں اس لیے میں یہ بھی سارا پڑھ دیتا ہوں۔عموما تو وہی واقعہ بیان ہوا ہے لیکن حضرت مصلح موعود کا اپنا ایک انداز ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ : ” جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ آپ اس میں یہ عموماتو ہوا شخص کی یہ خواہش تھی کہ آپ اس کے گھر میں ٹھہریں۔جس جس گلی میں سے آپ کی اونٹنی گزری تھی اس گلی کے مختلف خاندان اپنے گھروں کے آگے کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی علیکم کا استقبال کرتے تھے اور کہتے تھے یار سول اللہ ! یہ ہمارا گھر ہے اور یہ ہمارا مال ہے اور یہ ہماری جانیں ہیں جو آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہیں۔یارسول اللہ ! اور ہم آپ کی حفاظت کرنے کے قابل ہیں۔آپ ہمارے ہی پاس ٹھہریں۔بعض لوگ جوش میں آگے بڑھتے اور آپ کی اونٹنی کی باگ پکڑ لیتے تاکہ آپ کو اپنے گھر میں اتروالیں مگر آپ ہر ایک شخص کو یہی جواب دیتے تھے کہ میری اونٹنی کو چھوڑ دو یہ آج خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہے۔یہ وہیں کھڑی ہو گی جہاں خدا تعالیٰ کا منشا ہو گا۔آخر مدینہ کے ایک سرے پر بنو نجار کے یتیموں کی ایک زمین کے پاس جاکر نٹنی ٹھہر گئی۔آپ نے فرمایا خد اتعالیٰ کا یہی منشا معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں ٹھہریں۔: پھر فرمایا یہ زمین کس کی ہے؟ زمین کچھ یتیموں کی تھی۔ان کا ولی آگے بڑھا اور اس نے کہا یار سول اللہ ! یہ فلاں فلاں یتیم کی زمین ہے اور آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہے۔آپ نے فرمایا: ہم کسی کا مال مفت نہیں لے سکتے۔آخر اس کی قیمت مقرر کی گئی اور آپ نے اس جگہ پر مسجد اور اپنے مکانات بنانے کا فیصلہ کیا۔اس کے بعد آپ نے فرمایا : سب سے قریب گھر کس کا ہے ؟ ابو ایوب انصاری آگے بڑھے اور کہا یا رسول اللہ ! میر اگھر سب سے قریب ہے اور آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہے۔آپ نے فرمایا: گھر جاؤ اور ہمارے لیے کوئی کمرہ تیار کرو۔ابو ایوب کا مکان دو منزلہ تھا۔انہوں نے رسول اللہ صلی ال نیم کے لیے اوپر کی منزل تجویز کی مگر آپ نے اس خیال سے کہ ملنے والوں کو تکلیف ہو گی نچلی منزل پسند فرمائی۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ انصار کو رسول اللہ صلی علی یم کی ذات سے جو شدید محبت پیدا ہو گئی تھی اس کا مظاہرہ اس موقع پر بھی ہوا۔رسول اللہ صلی علی یلم کے اصرار پر حضرت ابوایوب مان تو گئے کہ آپ نچلی منزل میں ٹھہریں لیکن ساری رات میاں بیوی اس خیال سے جاگتے رہے کہ رسول اللہ صلی الیکم ان کے نیچے سو رہے ہیں پھر وہ کس طرح اس بے ادبی کے مر تکب ہو سکتے ہیں کہ وہ چھت کے اوپر سوئیں۔“ یہ محبت کا ایک اظہار تھا۔رات کو ایک برتن پانی کا گر گیا تو اس خیال سے کہ چھت کے نیچے