اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 159 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 159

اصحاب بدر جلد 4 صا الله 159 405 حضرت بلال کے اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے اور اس پر آنحضرت صلی الی ایم کے ارشاد کا ذکر کرتے ہوئے اس وقت جماعت کو یہ کہتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں اوروں کو تو نہیں جانتا، اوروں کو تو نہیں کہہ سکتا جو دوسرے لوگ غیر احمدی مسلمان ہجرت کر کے آئے ہیں لیکن احمدیوں سے یہ کہتا ہوں کہ یہ خیال چھوڑ دو کہ تم لٹے ہوئے ہو۔تم نے ہجرت کی ہے اور لٹ پٹ کے آئے ہو۔رسول کریم صلی یکم ان مہاجرین پر افسوس کیا کرتے تھے جو وطن اور جائیدادوں کے چھوٹ جانے پر افسوس کرتے تھے۔رسول کریم صلی علم جب مدینے تشریف لائے اس وقت مدینہ کا نام یثرب ہوا کرتا تھا اور وہاں ملیریا بخار بھی کثرت سے ہو تا تھا۔ملیر یا پھیلنا شروع ہوا تو مہاجرین کو بخار چڑھے۔ادھر وطن کی جدائی کا صدمہ تھا۔ان میں سے بعض نے رونا اور چلانا شروع کر دیا کہ ہائے مکہ ! ہائے مکہ ! ایک دن حضرت بلال کو بھی بخار ہو گیا انہوں نے شعر بنابنا کر شور مچانا شروع کر دیا۔رسول کریم صلی علیم نے دیکھا تو آپ خفا ہوئے اور فرمایا کہ کیا تم ایسے کام کے لیے یہاں آئے ہو ؟ ہجرت کی ہے تو شور مچانا کیسا؟ حضرت مصلح موعود احمدیوں کو جو اس وقت ہجرت کر کے ہندوستان سے پاکستان آئے تھے ، نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں بھی تمہیں یہ کہتا ہوں کہ خوش رہو۔تم یہ نہ دیکھو کہ ہم نے کیا کھویا ہے۔تم دیکھو کہ ہم نے کس کے لیے کھویا ہے۔اگر تم نے جو کھو یاوہ خدا تعالیٰ کے لیے اور اسلام کی ترقی کے لیے کھویا ہے تو تم خوش رہو اور کسی موقع پر بھی اپنی کمریں خم نہ ہونے دو۔تمہارے چہرے افسردہ نہ ہوں بلکہ ان پر خوشی کے آثار پائے جائیں۔تو ہم احمدی تو اس سوچ کے رکھنے والے تھے اور یہ ہمیں اس وقت کے خلیفہ نے نصیحت کی تھی کہ ہماری ہجرت اللہ تعالیٰ کی خاطر اور اسلام کی خدمت کے لیے ہے۔وہ لوگ جو پاکستان کی تعمیر کے خلاف تھے ، پاکستان کی اساس اور بنیاد کے دعویدار بن کر اپنے جھوٹ اور فریب سے آج احمدیوں کو اس ملک کے بنیادی شہری حقوق سے محروم کر رہے ہیں جس کی خاطر سب سے زیادہ قربانیاں احمدیوں نے دیں۔جس دین کی برتری اور خدمت کے لیے ہم نے ہجرت کی پاکستان کی پارلیمنٹ نے اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر اس دین کا نام لینے پر بھی ہم پر پابندی لگا دی۔ہمیں بہر حال ان کی کسی سند کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہمیں افسوس اس بات پر ضرور ہوتا ہے کہ ان نام نہاد ملک کے ٹھیکید اروں نے احمدیوں پر یہ ظلم کر کے صرف احمدیوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ پاکستان پر ظلم کیا ہے اور کر رہے ہیں اور دنیا میں ملک کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔اس کی ترقی میں روک بن رہے ہیں۔اگر یہ لوگ نہ ہوں جو ملک کو کھا رہے ہیں، دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں تو ملک اس وقت ترقی کر کے کہیں کا نہیں پہنچ چکا ہو لیکن اس کے باوجود ہم پاکستانی احمدیوں کا یہ کام ہے، خاص طور پر جو پاکستان میں رہنے والے ہیں، کہ ملک کی ترقی کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ کوشش کرتے رہیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان ظالموں سے اس ملک کو پاک کرے۔