اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 160 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 160

اصحاب بدر جلد 4 160 تمام غزوات میں شرکت بہر حال یہ واقعہ آیا تو اس ضمن میں ذکر ہو گیا۔اب میں دوبارہ حضرت بلال کی طرف کے واقعات، روایات بیان کرتا ہوں۔طبقات الکبریٰ میں لکھا ہے حضرت بلال بدر، احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی الل نام کے ساتھ شامل ہوئے۔406 حضرت بلال کے ظالم آقا امیہ بن خلف کا قتل غزوہ بدر میں حضرت بلال نے امیہ بن خلف کو قتل کیا جو اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا اور حضرت 407 بلال کو اسلام لانے پر دکھ دیا کرتا تھا۔17 امیہ بن خلف کے قتل کا واقعہ صحیح بخاری میں بیان ہوا ہے جس کی تفصیل حبیب بن اساف کے ذکر میں میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔تاہم یہاں بھی کچھ بیان کر دیتا ہوں کیونکہ اس کا براہ راست تعلق حضرت بلال کے ساتھ بھی ہے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امیہ بن خلف کو خط لکھا کہ وہ کتنے میں، جو اس وقت دار الحرب تھا، میرے مال اور بال بچوں کی حفاظت کرے اور میں اس کے مال و اسباب کی مدینے میں حفاظت کروں گا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف کا اس سے پرانا تعلق تھا۔امیہ بن خَلَف بدر کی جنگ میں بھی شامل ہوا۔کافروں کی فوج میں کافروں کے ساتھ آیا تھا اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کو اس کے بدر میں شامل ہونے کا علم ہو گیا تھا۔اس پرانے تعلق کی وجہ سے وہ اس پر احسان کر کے جنگ کے بعد رات کو اس کو بچانا بھی چاہتے تھے۔چنانچہ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ بدر کی جنگ میں تھا تو جب لوگ سو چکے تھے میں ایک پہاڑ کی طرف نکل گیا تا میں اس کی حفاظت کروں کیونکہ پتہ تھا کہ اس طرف کہیں گیا ہوا ہے تو میں بھی گیا تا کہ اس کو حفاظت کر کے بچالوں۔حضرت بلال نے اس وقت اسے کہیں دیکھ لیا۔چنانچہ حضرت بلال گئے اور انصار کی ایک مجلس میں کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ امیہ بن خلف ہے اگر بچ نکلا تو میری خیر نہیں۔اس پر بلال کے ساتھ کچھ لوگ ہمارے تعاقب میں نکلے۔میں ڈرا کہ وہ ہمیں پالیں گے، پکڑلیں گے۔اس لیے میں نے اس کے بیٹے کو اس کی خاطر پیچھے چھوڑ دیا کہ وہ اس کے ساتھ لڑائی میں مشغول ہو جائیں اور ہم ذرا آگے نکل جائیں۔کہتے ہیں چنانچہ انہوں نے اس بیٹے کو تو لڑائی میں مار دیا۔میرا یہ داؤ جو تھا وہ کار گر نہیں ہوا اور اس کو مار کے پھر انہوں نے ہمارا پیچھا شروع کر دیا اور امیہ چونکہ بھاری بھر کم آدمی تھا اس لیے جلدی اِدھر اُدھر نہیں ہو سکتا تھا۔آخر جب انہوں نے ہمیں پکڑ لیا، قریب پہنچ گئے تو میں نے اسے کہا کہ بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گیا اور میں نے اپنے آپ کو اس پر ڈال دیا کہ اسے بچاؤں تو انہوں نے جو پیچھا کر رہے تھے میرے نیچے سے اس کے بدن میں تلواریں گھونپیں یہاں تک کہ اسے مار ڈالا۔ان میں سے ایک نے اپنی تلوار سے میرے پاؤں پر زخم بھی کر دیا۔408