اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 104
اصحاب بدر جلد 4 104 آخری وقت اور وصیت جب حضرت ابو عبیدہ انکا آخری وقت آیا تو لوگوں سے فرمایا کہ لوگو ! میں تمہیں ایک وصیت کرتا ہوں اگر قبول کرو گے تو فائدے میں رہو گے۔نصیحت یہ ہے کہ نماز کو قائم کرنا۔زکوۃ ادا کرنا۔رمضان کے روزے رکھنا۔صدقہ دیتے رہنا۔حج کرنا۔عمرہ کرنا۔ایک دوسرے کو اچھی باتوں کی تاکید کرنا۔اپنے امراء سے خیر خواہی کرنا۔انہیں دھوکا نہ دینا۔دیکھو تمہیں عورتیں تمہارے فرائض سے غافل نہ کر دیں۔اگر آدمی ہزار سال بھی زندہ رہے تب بھی ایک دن اسے اس دنیا سے رخصت ہونا ہے جیسا میں رخصت ہوا چاہتا ہوں۔اللہ نے بنی آدم کے لیے موت مقدر کر رکھی ہے۔ہر شخص مرے گا۔عقلمند وہ ہے جو موت کے لیے تیار رہتا ہے اور اس دن کے لیے تیاری کرتا ہے۔امیر المومنین کو میر اسلام پہنچادینا اور عرض کرنا کہ میں نے تمام امانتیں ادا کر دی ہیں۔پھر حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا کہ مجھے میرے فیصلہ کے مطابق یہیں دفن کر دینا۔چنانچہ اردن کی زمین میں وادی بیسان میں آپ کی قبر ہے۔بعض روایات کے مطابق حضرت ابو عبیدہ بن جراح جابیہ سے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کے لیے جارہے تھے تو راستہ میں آپ کی وفات کا وقت آگیا اور دوسری روایت کے مطابق آپ کی وفات شام کے علاقہ فحل میں ہوئی اور آپ کی قبر بیسان مقام کے پاس ہے۔حضرت ابو عبیدہ نے مرض الموت میں حضرت معاذ بن جبل کو اپنا قائمقام مقرر فرمایا۔جب حضرت ابو عبیدہ کی وفات ہوئی تو حضرت معاذ نے لوگوں سے کہا لو گو ! آج ہم میں سے وہ شخص جد ا ہو ا ہے جس سے زیادہ صاف دل، بے کینہ ، لوگوں سے محبت کرنے والا اور ان کا خیر خواہ میں نے نہیں دیکھا۔دعا کرو کہ اللہ اس پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔5 حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے 18 ہجری میں وفات پائی۔اس وقت آپ کی عمر 58 سال تھی۔56 اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اسلام میں ابو عبیدہ جیسے پیدا کیے 255 ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابو عبیدہ کو چار ہزار درہم اور چار سو دینار بھجوائے اور اپنے قاصد سے فرمایا کہ دیکھناوہ اس مال کا کیا کرتے ہیں۔چنانچہ جب وہ قاصد یہ مال لے کر حضرت ابو عبیدہ کے پاس پہنچا تو حضرت ابو عبیدہ نے ساری رقم لوگوں میں تقسیم کر دی۔قاصد نے یہ تمام واقعہ حضرت عمرؓ سے بیان کیا جس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اسلام میں ابو عبیدہ جیسے پیدا کیے۔حضرت عمر کی ایک خواہش۔۔۔۔۔حضرت عمر نے ایک دفعہ اپنے ساتھیوں سے کہا کسی چیز کی خواہش کرو۔کسی نے کہا میری خواہش ہے کہ یہ گھر سونے سے بھر جائے اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کروں اور صدقہ کر دوں۔ایک شخص نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ یہ مکان ہیرے جواہرات سے بھر جائے اور میں اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کروں اور صدقہ کر دوں۔پھر حضرت عمرؓ نے کہا اور خواہش کرو۔انہوں نے کہا اے امیر المومنین !