اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 103 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 103

اصحاب بدر جلد 4 103 تعالیٰ کا ہی بنایا ہوا ہے تو میں اس کے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہا بلکہ اس کی قضا سے قدر کی طرف لوٹ رہا ہوں۔یعنی خدا تعالیٰ کے خاص قانون کے مقابلہ میں اس کے عام قانون کی طرف جارہا ہوں۔پس تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں بھاگ رہا ہوں۔میں صرف ایک قانون سے اس کے دوسرے قانون کی طرف جارہا ہوں۔“ 25366 حضرت عمرؓ نے خط پڑھا اور روپڑے حضرت عمر مدینہ واپس آگئے مگر آپ کو طاعون کے پھیلنے کی وجہ سے بہت گھبراہٹ اور پریشانی تھی۔ایک دن حضرت عمر نے حضرت ابو عبیدہ کو خط بھجوایا کہ مجھے تم سے ایک ضروری کام ہے اس لیے جب تمہیں یہ خط پہنچے تو فوراً مدینے کے لیے روانہ ہو جانا۔اگر خط رات کو پہنچے تو صبح ہونے کا انتظار نہ کرنا اور اگر خط صبح پہنچے تو رات ہونے کا انتظار نہ کرنا۔حضرت ابو عبیدہ نے جب وہ خط پڑھا تو کہنے لگے کہ میں امیر المومنین کی ضرورت کو جانتا ہوں۔اللہ حضرت عمرؓ پر رحم کرے کہ وہ اسے باقی رکھنا چاہتے ہیں جو باقی رہنے والا نہیں ہے۔سمجھ گئے کہ کیا گھبر اہٹ ہے؟ کس وجہ سے ہے ؟ پھر اس خط کا جواب دیا کہ یا امیر المومنین ! میں آپ کی منشا کو سمجھ گیا ہوں۔مجھے نہ بلائیے۔یہیں رہنے دیجئے۔میں مسلمان سپاہیوں میں سے ایک ہوں۔جو مقدر ہے وہ ہو کر رہے گا۔میں ان سے کیسے منہ موڑ سکتا ہوں ؟ حضرت عمرؓ نے جب وہ خط پڑھا تو آپ رو پڑے۔مہاجرین میں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے پوچھایا امیر المومنین ! کیا حضرت ابو عبیدہ فوت ہو گئے۔آپؐ نے فرمایا نہیں لیکن شاید ہو جائیں۔254 ابو عبیدہ کا شوق شہادت پھر حضرت عمررؓ نے حضرت ابو عبیدہ کو لکھا کہ مسلمانوں کو اس خطے سے نکال کر کسی صحت افزا مقام پر لے جاؤ۔جب بھی کوئی مسلمان سپاہی طاعون سے شہید ہوتا تو حضرت ابوعبیدہ روپڑتے اور اللہ سے شہادت طلب کرتے۔ایک روایت میں ہے کہ اس وقت آپ یہ دعا پڑھتے کہ اے اللہ ! کیا ابو عبیدہ کی آل کا اس میں یعنی شہادت میں حصہ نہیں۔ایک دن حضرت ابو عبیدہ کی انگلی پر ایک چھوٹی سی پھنسی نمودار ہوئی۔اس کو دیکھ کر آپ نے کہا امید ہے کہ اللہ اس تھوڑے میں برکت ڈالے گا اور جب تھوڑے میں برکت ہو تو وہ بہت ہو جاتا ہے۔عرباض بن ساریہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابو عبیدہ طاعون سے بیمار ہوئے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت ابو عبیدہ نے میرے سے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللی کمی سے سنا ہے کہ جو طاعون سے مرے وہ شہید ہے۔جو پیٹ کی بیماری سے مرے وہ شہید ہے۔جو ڈوب کر مرے وہ شہید ہے اور جو چھت کے گرنے سے دب کر مر جائے وہ شہید ہے۔