اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 414 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 414

ب بدر جلد 3 414 حضرت علی 816 ہے ؟ پھر حضور صلی الم نے فرمایا کہ اگر ان لوگوں میں سے کوئی شخص انہیں خیر بھلائی کی نصیحت کر سکتا ہے تو وہ سرخ اونٹ والا شخص ہے۔اتنی دیر میں حضرت حمزہ بھی آگئے۔انہوں نے آکر بتایا کہ وہ عشبہ بن ربیعہ ہے جو کفار کو جنگ سے منع کر رہا ہے جس کے جواب میں ابو جہل نے اسے کہا کہ تم بزدل ہو اور لڑائی سے ڈرتے ہو۔عتبہ نے جوش میں آکر کہا کہ آج دیکھتے ہیں کہ بزدل کون ہے۔بہر حال پھر وہ جنگ میں شامل ہوا۔حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی للی یکم نے غزوہ بدر کے موقعے پر میرے اور حضرت ابو بکر کے بارے میں فرمایا تم دونوں میں سے ایک کے دائیں جانب حضرت جبرئیل ہیں اور دوسرے کے دائیں جانب حضرت میکائیل ہیں اور حضرت اسرافیل عظیم فرشتہ ہے جو لڑائی کے وقت حاضر ہوتا ہے 817 اور صف میں ہوتا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب غزوہ بدر کا ذکر کرتے ہوئے اس طرح لکھتے ہیں کہ حضرت علی کہتے ہیں کہ : مجھے لڑتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ عمر کا خیال آتا تھا تو میں آپ کے سائبان کی طرف بھاگ جاتا تھا لیکن جب بھی میں گیا میں نے آپ کو سجدہ میں گڑ گڑاتے ہوئے پایا۔اور میں نے سنا کہ آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے کہ يَا حَنُ يَا قَيُّومُ - يَا حَى يَا قَيُّومُ - اے خدا میرے زندہ خدا، اے میرے خدا زندگی بخش آقا۔حضرت ابو بکر آپ کی اس حالت کو دیکھ کر بے چین ہوئے جاتے تھے اور کبھی کبھی بے ساختہ عرض کرتے تھے یار سول اللہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔آپ گھبر ائیں نہیں۔اللہ اپنے وعدے ضرور پورے کرے گا۔مگر اس کے باوجود آپ کا برابر دعا کیے جانا، آپ دعا میں مصروف تھے اور اس خوف میں تھے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے بھی بعض دفعہ مشروط ہوتے ہیں۔حضرت فاطمہ سے شادی 818 حضرت فاطمہ سے شادی 2 ہجری میں ہوئی۔حضرت علی نے رسول اللہ صلی الم کی خدمت میں حضرت فاطمہ سے عقد کی درخواست کی جسے حضور صلی ا ہم نے بخوشی قبول فرمایا۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر اور پھر حضرت عمر دونوں نے نبی کریم صلی للی کم کی خدمت میں آکر حضرت فاطمہ سے شادی کی درخواست کی لیکن رسول کریم صلی علیم خاموش رہے اور انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں آنحضرت صلی للی کم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ حضرت فاطمہ کی شادی مجھ سے کریں گے ؟ آپ نے فرمایا کیا تمہارے پاس مہر کے لیے کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میرا گھوڑا اور میری زرہ ہے۔آپ نے فرمایا: گھوڑا تو تمہارے لیے ضروری ہے البتہ اپنی زرہ کو بیچ دو۔چنانچہ میں نے اپنی زرہ کو چار سو انتی در ہم میں بیچ کر حق مہر کی رقم کا انتظام کیا۔لوگ یہ کہتے ہیں کہ حق مہر رکھ لو تو جو ہو گاد دیکھی جائے گی، دے دیں گے۔لیکن ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی علیم نے فرمایا کہ حق مہر