اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 413 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 413

اصحاب بدر جلد 3 413 حضرت علی الله سة پس رسول اللہ صلی اللہ کریم نے فرمایا: اے بنو ہاشم ! اٹھو اپنے حق کے لیے لڑو جس کے ساتھ اللہ نے تمہارے نبی کو مبعوث کیا ہے جبکہ وہ لوگ اپنے باطل کے ساتھ آئے کہ وہ اللہ کے نور کو بجھا دیں۔پس حضرت حمزہ بن عبد المطلب، حضرت علی بن ابو طالب اور حضرت عبیدہ بن حارث کھڑے ہوئے اور ان کی طرف بڑھے تو عتبہ نے کہا کچھ بولو تا کہ ہم تمہیں پہچان سکیں۔ان لوگوں نے خود پہنے ہوئے تھے جن کی وجہ سے چہرے چھپے ہوئے تھے۔حضرت حمزہ نے کہا کہ میں حمزہ بن عبد المطلب اللہ اور اس کے رسول صلی علیکم کا شیر ہوں۔اس پر عتبہ نے کہا اچھا مقابل ہے اور میں حلیفوں کا شیر ہوں۔تیرے ساتھ یہ دو کون ہیں۔حضرت حمزہ نے کہا علی بن ابو طالب اور عبیدہ بن حارث۔عتبہ نے کہا دونوں اچھے مقابل ہیں۔پھر اس نے یعنی عتبہ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اے ولید ! اٹھو۔پس حضرت علی اس کے مقابل گئے اور ان دونوں میں تلوار چلنے لگی اور حضرت علی نے اسے قتل کر دیا۔پھر عتبہ کھڑا ہوا اور اس کے مقابل میں حضرت حمزہ نکلے۔پھر ان دونوں کے درمیان تلوار چلی۔حضرت حمزہ نے اسے قتل کر دیا۔پھر شیبہ کھڑ ا ہوا اور اس کے مقابل پر حضرت عبیدہ بن حارث نکلے جبکہ وہ (حضرت عبیدہ ) اس دن رسول کریم صلی المی یوم کے اصحاب میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ تھے۔شیبہ نے حضرت عبیدہ کی ٹانگ پر تلوار کا کنارا مارا جو آپ کی پنڈلی کے گوشت میں لگا اور اس کو چیر دیا۔حضرت حمزہ اور حضرت علی نے شَيْبَہ پر حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا۔یہ روایت دو سال ہوئے پہلے بھی بیان ہوئی تھی 814 کچھ حصہ میں بیان کرتاہوں۔ایک اور روایت ہے جو حضرت علی بیان کرتے ہیں۔اس کا تذکرہ اس طرح ملتا ہے کہ عتبہ بن ربیعہ اور اس کے پیچھے اس کا بیٹا اور بھائی بھی نکلے اور پکار کر کہا کہ کون ہمارے مقابلے کے لیے آتا ہے تو انصار کے کئی نوجوانوں نے اس کا جواب دیا۔عتبہ نے پوچھا کہ تم کون ہوں؟ انہوں نے بتا دیا کہ ہم انصار میں سے ہیں۔عتبہ نے کہا کہ ہمیں تم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ہم تو صرف اپنے چچا کے بیٹوں سے جنگ کا ارادہ رکھتے ہیں۔نبی کریم صلى الم نے فرمایا ! اے حمزہ ! اٹھو۔اے علی ! کھڑے ہو۔اے عبیدہ بن حارث ! آگے بڑھو۔حمزہ تو عتبہ کی طرف بڑھے اور حضرت علی کہتے ہیں کہ میں شیبہ کی طرف بڑھا اور عبیدہ اور ولید کے درمیان جھڑپ ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے کو سخت زخمی کیا اور پھر ہم ولید کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کو مار ڈالا اور عبیدہ کو ہم میدان جنگ سے اٹھا کر لے آئے۔815 813 حضرت علی غزوہ بدر کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ اس میں کفار کی تعداد مسلمانوں سے بہت زیادہ تھی۔رات بھر رسول اللہ صلی المی یوم خدا کے حضور عاجزانہ دعاؤں اور تضرعات میں مصروف رہے۔جب کفار کا لشکر ہمارے قریب ہوا اور ہم ان کے سامنے صف آرا ہوئے تو نا گاہ ایک شخص پر نظر پڑی جو سرخ اونٹ پر سوار تھا اور لوگوں کے درمیان اس کی سواری چل رہی تھی۔رسول کریم صلی ا ہم نے فرمایا: اے علی حمزہ !جو کفار کے قریب کھڑے ہیں انہیں پکار کر پوچھو کہ سرخ اونٹ والا کون ہے اور کیا کہہ رہا