اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 415 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 415

حاب بدر جلد 3 415 حضرت علی کے لیے پہلے انتظام کرو۔اس کا مطلب یہ فوری حق ہے۔یہ نہیں ہے جب کہ بعض لوگ مجھے لکھ دیتے ہیں کہ عور تیں حق مہر کا پہلے مطالبہ کر لیتی ہیں حالانکہ ہم ہنسی خوشی رہ رہے ہیں۔مطالبہ کر دیتی ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔یہ تو اسی وقت دینا چاہیے اور اس کے نہ دینے سے پھر جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔اور پھر طلاق خلع کے وقت تو یہ ادا ہونا چاہیے حالانکہ اس یعنی حق مہر کا طلاق اور خلع سے کوئی تعلق نہیں ہے بہر حال ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت علی نے یہ زرہ حضرت عثمان کو نیچی۔حضرت عثمان نے زرہ کی قیمت بھی ادا کر دی اور زرہ بھی واپس کر دی۔حضرت علی کہتے ہیں کہ میں وہ رقم لے کر آیا اور نبی کریم صلی الم کی گود میں رکھ دی۔آپ صلی للہ ہم نے اس میں سے مٹھی بھر بلال کو دیتے ہوئے فرمایا: اس سے کچھ خوشبو خرید لاؤ اور کچھ لوگوں کو ارشاد فرمایا کہ حضرت فاطمہ کا جہیز تیار کرو۔چنانچہ حضرت فاطمہ کے لیے ایک چارپائی، چمڑے کا ایک تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی یہ سب تیار کیا گیا۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی سے یہ رشتہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: میرے رب نے مجھے ایسا کرنے کا حکم فرمایا ہے۔رخصتی کے بعد آنحضرت صلی اللہ ہم نے حضرت علیؓ سے فرمایا۔جب فاطمہ تمہارے پاس آئیں تو جب تک میں نہ آؤں کوئی بات نہ کرنا۔چنانچہ حضرت فاطمہ حضرت ام ایمن کے ساتھ آئیں اور گھر کے ایک حصہ میں بیٹھ گئیں۔میں بھی ایک طرف بیٹھ گیا۔پھر رسول اللہ صلی اللی علم تشریف لائے اور فرمایا کیا میرا بھائی یہاں ہے۔ام ایمن نے کہا کہ آپ کا بھائی؟ اور آپ نے اپنی بیٹی کی شادی اس سے کی ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔کیونکہ ایسے رشتے میں شادی ہو سکتی ہے۔بہر حال وہ سگا بھائی نہیں ہے۔آپ اندر تشریف لائے اور حضرت فاطمہ سے کہا میرے پاس پانی لاؤ۔وہ اٹھیں اور گھر میں رکھے ہوئے ایک پیالے میں پانی لائیں۔آپ نے اسے لیا اور اس میں کلی کی پھر حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ آگے بڑھو وہ آگے ہوئیں۔آپ نے ان پر اور ان کے سر پر کچھ پانی چھٹڑ کا اور دعا دیتے ہوئے کہا۔اللَّهُمَّ إِنِّي أَعِيْنُهَا بِكَ وَذُرِّيَّعَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ اے اللہ ! اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔پھر آپ نے فرمایا دوسری طرف رخ کرو۔جب انہوں نے دوسری طرف رخ کیا تو آپ نے ان کے کندھوں کے در میان پانی چھڑ کا۔پھر ایسا ہی حضرت علی کے ساتھ کیا۔حضرت علی سے فرمایا اپنے اہل کے پاس جاؤ اللہ کے نام اور برکت کے ساتھ۔اسی طرح حضرت علی سے ایک روایت یوں مروی ہے کہ نبی کریم صلی الم نے ایک برتن میں وضو کیا۔پھر اس پانی کو حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہ پر چھڑ کا اور فرمایا: اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيْهِمَا وَبَارِكَ لَهُمَا فِي شملِهِمَا۔اے اللہ ! ان دونوں میں برکت رکھ دے اور ان دونوں کے جمع ہونے میں برکت رکھ دے۔حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی ا یکم نے ہمیں ارشاد فرمایا کہ ہم فاطمہ کو تیار کریں۔یہاں تک کہ ہم اس کو حضرت علی کے پاس لے جائیں۔چنانچہ ہم گھر کی طرف متوجہ