اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 412 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 412

محاب بدر جلد 3 412 حضرت علی تھا کہ مسجد میں سوئے ہوئے تھے۔مٹی لگ گئی تھی تو آپ نے کہا اے ابو تراب! ابو تراب کے نام سے پکارا۔اس وقت سے آپ کی کنیت یہ بھی ہو گئی تھی یا ہو سکتا ہے اس وقت سے آپ نے یہ نام رکھا ہو ، بعد میں بھی ہو یا دونوں جگہ فرمایا ہو۔جو بھی پہلے کا واقعہ ہے۔پہلے کا واقعہ تو یہی لگتا ہے۔بہر حال کیا میں تمہیں دو بد بخت ترین آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں ! ہم نے کہا ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا پہلا شخص قوم ثمود کا اخیر تھا جس نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی ٹانگیں کاٹی تھیں اور دوسرا شخص وہ ہے جو اے علی ! تمہارے سر پر وار کرے گا یہاں تک کہ خون سے یہ داڑھی تر ہو جائے گی۔809 غزوه سَفَوَان بَدْرُ الأولى مجمادی الآخر میں 2 ہجری میں ہوا تھا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس کے بارے میں تفصیل اس طرح لکھی ہے کہ ابھی آنحضرت صلی کم کو غزوہ عقیدہ سے واپس مدینہ تشریف لائے ہوئے دس دن بھی نہیں گزرے تھے کہ مکہ کے ایک رئیس گرز بن جابر فِهْرِی نے قریش کے ایک دستہ کے ساتھ کمال ہوشیاری سے مدینہ کی چراگاہ پر جو شہر سے صرف تین میل پر تھی سة اچانک حملہ کیا اور مسلمانوں کے اونٹ وغیرہ لوٹ کر جاتارہا۔آنحضرت صلی اللہ ہم کو یہ اطلاع ہوئی تو آپ فوراً زید بن حارثہ کو اپنے پیچھے امیر مقرر کر کے مہاجرین کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر اس کے تعاقب میں نکلے اور سفوان تک جو بدر کے پاس ایک جگہ ہے اس کا پیچھا کیا مگر وہ بچ کر نکل گیا۔اس غزوہ کو غزوہ بدرالاولی بھی کہتے ہیں۔810 اس غزوے کے موقعے پر آپ صلی یہ تم نے حضرت علی کو سفید جھنڈ اعطا فرمایا تھا۔811 غزوہ بدر 12 ہجری مطابق مارچ 624ء میں ہوا تھا اور اس کا ذکر اور اس میں حضرت علی کے بارے میں یوں تذکرہ ملتا ہے کہ : آنحضرت صلی الم نے حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت بشبش بن عمرو کو مشرکین کی خبر دریافت کرنے کے لیے بدر کے چشمہ پر بھیجا۔انہوں نے قریش کو اپنے جانوروں کو پانی پلاتے ہوئے دیکھا اور مشرکین کی اس جماعت کو پکڑ کر رسول اللہ صلیالی کم کی خدمت میں پیش کیا۔812 غزوہ بدر کے موقعے پر جب دونوں لشکر آمنے سامنے تھے تو سب سے پہلے ربیعہ کے دونوں بیٹے شَيْبَه عُتبہ اور ولید بن عتبہ نکلے اور مبارزت کی دعوت دی تو قبیلہ بنو حارث کے تین انصاری معاذ اور معوذ اور عوف جو عفراء کے فرزند تھے ان کی طرف سے مقابلے کے لیے نکلے مگر رسول الله صلى اللم نے یہ ناپسند فرمایا کہ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان پہلی مڈھ بھیٹر میں انصار شامل ہوں بلکہ آپ نے یہ پسند فرمایا کہ آپ کے چا کی اولاد اور آپ کی قوم کے ذریعہ سے یہ شوکت ظاہر ہو۔پس آپ نے انصار کو حکم دیا تو وہ اپنی صفوں میں واپس آگئے اور آپ نے ان کے لیے کلمہ خیر فرمایا۔پھر مشرکین نے کہا اے محمد ! ہماری طرف مقابلے کے لیے ہماری قوم میں سے ہمارے ہم پلہ لوگ بھیجو۔* وہاں سن 623ء لکھا ہوا ہے جو سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔مرتب