اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 293
اصحاب بدر جلد 3 293 حضرت عمر بن خطاب دے۔پھر حضرت عمرؓ نے اس مصری شخص سے کہا کہ عمرو بن عاص کے سر پر مارو۔تو اس (مصری) نے کہا کہ اے امیر المومنین ! ان کے بیٹے نے مجھے مارا تھا اور میں نے اس سے بدلہ لے لیا ہے۔تو حضرت عمر نے حضرت عمرو بن عاص سے کہا: تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنار کھا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد پیدا کیا ہے ؟ حضرت عمرو بن عاص نے عرض کیا اے امیر المومنین !نہ مجھے اس واقعہ کا علم تھا اور نہ وہ مصری میرے پاس آیا۔565 ایک مرتبہ حضرت عمرؓ کے پاس کچھ مال آیا اور آپؐ اسے لوگوں کے درمیان تقسیم کرنے لگے۔لوگوں نے بھیڑ لگادی۔حضرت سعد بن ابی وقاص لوگوں سے مزاحمت کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور آپ تک پہنچ گئے۔آپ نے انہیں ایک درہ لگایا اور کہا: تم زمین میں اللہ کے سلطان سے نہیں ڈرے اور اثر دھام کو چیرتے ہوئے آگے نکل آئے تو میں نے سوچا کہ تم کو بتادوں کہ اللہ کا سلطان بھی تم سے قطعا نہیں ڈرتا۔حضرت عمر میں وسعت حوصلہ کس حد تک تھی۔اس بارے میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا۔اے لوگو! تم میں کوئی بھی شخص اگر مجھ میں ٹیڑھا پن دیکھے تو اسے سیدھا کر دے۔ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا اگر ہم آپ میں ٹیڑھا پن دیکھیں گے تو اسے اپنی تلواروں سے سیدھا کریں گے۔حضرت عمر نے کہا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اس امت میں ایسا بھی آدمی 569 566 پیدا کیا ہے جو عمر کے ٹیڑھے پن کو اپنی تلوار سے سیدھا کرے گا۔567 حضرت عمرؓ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: مجھے بھلائی کا حکم دے کر ، برائی سے روک کر اور مجھے نصیحت کر کے میری مدد کرو۔568 پھر ایک موقع پر حضرت عمر نے فرمایا کہ میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ وہ شخص ہے جو میرے عیوب سے مجھے آگاہ کرے۔9 پھر حضرت عمر کا ایک قول بیان کیا جاتا ہے کہ مجھے خوف ہے کہ میں غلطی کروں اور میرے ڈر سے کوئی مجھے سیدھا راستہ نہ دکھائے۔570 ایک دن آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور مجمع عام کے سامنے کہنے لگا: اے عمر! اللہ سے ڈرو۔بعض لوگ اس کی بات سن کر سخت غصہ ہو گئے اور اسے خاموش کرانا چاہا۔اس پر حضرت عمرؓ نے اس سے کہا: تم میں کوئی خیر نہیں اگر تم عیب کو نہ بتاؤ اور ہم میں کوئی خیر نہیں اگر ہم اس کو نہ سنیں۔571 یعنی اسے کہا صرف یہ بات نہ کرو بلکہ معین کر کے بتاؤ کہ کیا بات کرنا چاہتے ہو۔ایک دن حضرت عمر لو گوں کے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔آپ نے اتنا ہی کہا تھا اے لوگو! سنو اور اطاعت کرو کہ ایک آدمی نے بات کاٹتے ہوئے کہا: اے عمر !نہ ہم سنیں گے اور نہ اطاعت کریں گے۔حضرت عمرؓ نے اس سے نرمی سے پوچھا اللہ کے بندے ! کیوں؟ اس نے کہا: اس لیے