اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 294
تاب بدر جلد 3 294 حضرت عمر بن خطاب کہ بیت المال سے جو کپڑ اسب میں تقسیم کیا گیا اس سے لوگ صرف قمیص بنوا سکے۔جوڑا مکمل نہیں ہوا اور آپ کو بھی اتنا ہی کپڑا ملا ہو گا۔پھر آپ کا جوڑا کیسے تیار ہو گیا؟ حضرت عمرؓ نے کہا: اپنی جگہ ٹھہرے رہو اور پھر اپنے بیٹے عبد اللہ کو بلایا۔عبد اللہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے والد کو اپنے حصہ کا کپڑا دیا ہے تا کہ ان کا لباس مکمل ہو جائے۔یہ سن کر سب لوگ مطمئن ہو گئے اور اس آدمی نے کہا۔اے امیر المومنین ! اب سنوں گا اور اطاعت کروں گا۔572 بعض اس قسم کے اجڈ بھی ہوتے تھے لیکن اس قسم کی باتیں آنحضرت صلی علم کے جو تربیت یافتہ صحابہ تھے ان کے منہ سے کبھی آپ نہیں سنیں گے۔یہ وہی لوگ ہیں جو دیر سے مسلمان ہوئے، یا پھر بالکل ہی اجڈ، ان پڑھ اور جاہل تھے۔جو کبار صحابہ تھے ان میں ایسی باتیں نہیں پائی جاتی تھیں ان میں کامل اطاعت ہوتی تھی۔اسلام مذہبی امور میں آزادی دیتا ہے۔اس بارے میں حضرت عمر کا طریق کیا تھا۔فتح اسکندریہ کے بعد وہاں کے حاکم نے حضرت عمرو بن عاص کو پیغام بھیجا کہ اے اقوامِ عرب ! میں تم سے زیادہ قابل نفرت قوموں یعنی اہل فارس اور روم کو جزیہ ادا کر تا تھا۔اگر آپ پسند کریں تو میں آپ کو جزیہ ادا کرنے کے لیے تیار ہوں بشر طیکہ آپ میرے علاقے کے جنگی قیدیوں کو لوٹا دیں۔حضرت عمرو بن عاص نے دربارِ خلافت میں تمام حالات لکھے۔حضرت عمر کا جواب آیا کہ تم حاکم اسکندریہ کے سامنے یہ تجویز رکھو کہ وہ جزیہ ادا کرے مگر جو جنگی قیدی تمہارے قبضہ میں ہیں یعنی مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں انہیں اختیار دیا جائے گا کہ وہ اسلام قبول کریں یا اپنی قوم کے مذہب کو برقرار رکھیں۔جو مسلمان ہو جائے گاوہ مسلمانوں میں شامل ہو گا اور اس کے حقوق و فرائض انہی جیسے ہوں گے یعنی مسلمانوں جیسے مگر جو اپنی قوم کے مذہب پر بر قرار رہے گا اس پر وہی جزیہ مقرر کیا جائے گا جو اس کے ہم مذہبوں پر ہو گا۔چنانچہ عمر و بن عاص نے تمام قیدیوں کو جمع کیا اور ان کو فرمانِ خلافت پڑھ کر سنایا گیا تو بہت سے قیدی مسلمان ہو گئے۔3 مذہبی آزادی میں آپ کس قدر محتاط تھے۔اس بارے میں ایک واقعہ ہے۔ایک دفعہ ایک بوڑھی نصرانی عورت اپنی کسی ضرورت سے حضرت عمرؓ کے پاس آئی تو آپ نے اس سے کہا مسلمان ہو جاؤ محفوظ رہو گی۔اللہ نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا تھا۔اس نے جواب دیا میں بوڑھی عورت ہوں اور موت میرے قریب ہے۔آپ نے اس کی ضرورت پوری کر دی لیکن ڈرے کہ کہیں آپ کا یہ کام اس کی ضرورت سے غلط فائدہ اٹھا کر اسے مجبور امسلمان بنانے کے مترادف نہ ہو جائے۔اس لیے آپ نے اس عمل سے اللہ تعالیٰ سے توبہ کی اور کہا اے اللہ ! میں نے اسے سیدھی راہ دکھائی تھی اسے مجبور نہیں کیا تھا۔بہت احتیاط تھی۔574 پھر ایک واقعہ ہے۔حضرت عمر کا ایک عیسائی غلام تھا اس کا نام اشق تھا اس کا بیان ہے کہ میں 573