اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 292 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 292

محاب بدر جلد 3 292 حضرت عمر بن خطاب آپ چراگاہ میں لے کر جارہے تھے کہ کہیں ادھر ادھر گم نہ ہو جائیں۔اتفاق سے حضرت عثمان نے جب دیکھا تو کہا کہ یہ کام ہم کر لیتے ہیں، آپؐ سائے میں آجائیں۔تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم لوگ آرام سے سائے میں بیٹھو۔یہ میرا کام ہے۔یہ میں ہی کروں گا۔562 اس واقعہ کو حضرت مصلح موعود یوں بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق مسلمانوں کو مال دیا، دولت دی، عزت دی، رتبہ دیا مگر وہ اسلام سے غافل نہیں ہو گئے۔یہ بیان فرمار ہے ہیں کہ تم لوگوں میں کچھ ہے تو اپنے دین سے غافل نہ ہو، اسلام کی تعلیم سے غافل نہ ہو، اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہو۔فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ باہر قُبہ میں بیٹھا ہوا تھا اور اتنی شدید گرمی پڑرہی تھی کہ دروازہ کھولنے کی بھی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ اتنے میں میرے غلام نے مجھے کہا۔دیکھئے شدید دھوپ میں باہر ایک شخص پھر رہا ہے۔تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہ شخص میرے قبہ کے قریب پہنچا اور میں نے دیکھا کہ وہ حضرت عمر نہیں۔ان کو دیکھتے ہی میں گھبر اکر باہر نکلا اور میں نے کہا اس گرمی میں آپ کہاں؟ حضرت عمرؓ فرمانے لگے کہ بیت المال کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا جس کی تلاش میں میں باہر پھر رہا ہوں۔حضرت مصلح موعودؓ نے آگے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عَلَی الْأَرَابِكِ يَنْظُرُونَ وہ ہوں گے تختوں پر مگر ہر وقت نگرانی ان کا کام ہو گا۔دنیا کی نعمتیں اور دنیا کے آرام ان کو سست نہیں بنائیں گی۔وہ ان آرائك کے اندر سو نہ رہے ہوں گے بلکہ بیدار اور ہوشیار ہوں گے۔لوگوں کے حقوق کی دیکھ بھال کریں گے اور اپنے فرائض منصبی کو پوری خوش اسلوبی سے ادا کرتے چلے جائیں گے۔563 مساوات کے قیام کے بارے میں روایت آتی ہے۔سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ حضرت عمرؓ کے پاس ایک یہودی اور ایک مسلمان لڑتے ہوئے آئے۔حضرت عمر کو یہودی کی طرف حق معلوم ہوا تو انہوں نے اس کے موافق فیصلہ کیا۔پھر یہودی بولا اللہ کی قسم !تم نے سچا فیصلہ کیا ہے۔564 حضرت انس سے روایت ہے کہ مصر کا ایک شخص حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا اے امیر المومنین ! میں ظلم سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔آپؐ نے فرمایا: تو نے اچھی پناہ گاہ ڈھونڈی ہے۔اس نے کہا میں نے عمرو بن عاص کے بیٹے کے ساتھ دوڑ میں مقابلہ کیا اور میں اس سے آگے نکل گیا۔اس پر وہ مجھے کوڑے مارنے لگا اور کہا میں معزز فرد کا بیٹا ہوں۔تمہیں یہ جرات کس طرح ہوئی کہ میرے سے آگے نکلو۔یہ سن کر حضرت عمرؓ نے حضرت عمرو بن عاص کو خط لکھا اور انہیں اپنے بیٹے کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیا۔حضرت عمرو بن عاص آئے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا مصری کہاں ہے ؟ کوڑالو اور حضرت عمرو بن عاص کے اس لڑکے کو مارو۔وہ اسے مارنے لگا۔اور حضرت عمررؓ فرما رہے تھے، اس مصری شخص کو کہہ رہے تھے کہ معزز فرد کے بیٹے کو مار۔حضرت انس نکا بیان ہے کہ اس نے اسے مارا اور ہم اس کے مارنے کو پسند کر رہے تھے۔وہ اسے مسلسل کوڑے مارتا رہا یہاں تک کہ ہم نے تمنا کی کہ اب چھوڑ