اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 291 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 291

اصحاب بدر جلد 3 291 حضرت عمر بن خطاب الجاهلين۔حضرت عمر کا چہرہ زرد ہو گیا اور خاموش رہ گئے۔اس وقت اس کے بھائی نے “ یعنی اس می کے بھائی نے جو بول رہا تھا کہا۔دیکھا اسی لونڈے نے تمہیں بچایا ہے جس کو تم حقیر سمجھتے تھے۔557 حضرت عمر نبچوں کی تربیت کس طرح کیا کرتے تھے۔اس بارے میں ایک روایت ہے۔یوسف 558 بن یعقوب نے کہا: ابن شہاب نے مجھے اور میرے بھائی کو اور میرے چچا کے بیٹے کو جبکہ ہم کم سن بچے تھے کہا تم اپنے آپ کو بچہ ہونے کی وجہ سے حقیر نہ سمجھنا کیونکہ حضرت عمر کو جب کوئی معاملہ در پیش آتا تو آپ بچوں کو بلاتے اور ان سے بھی اس غرض سے مشورہ لیتے کہ آپ ان کی عقلوں کو تیز کرنا چاہتے تھے۔جنگ احد میں جب جنگ کا پانسا پلٹا اور مسلمانوں کو شدید نقصان برداشت کرنا پڑا تو اس وقت ابو سفیان نے تین بار پکار کر کہا۔یہاں حضرت عمر کی غیرت کا سوال ہے کہ کیا ان لوگوں میں محمد ہے ؟ نبی صلی الم نے صحابہ کو اسے جواب دینے سے روک دیا۔پھر اس نے تین بار پکار کر پوچھا: کیا لو گوں میں ابو قحافہ کا بیٹا ہے؟ پھر تین بار پوچھا: کیا ان لوگوں میں ابن خطاب ہے ؟ پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور کہنے لگا یہ جو تھے وہ تو مارے گئے۔یہ سن کر حضرت عمرؓ اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے اور بولے: اے اللہ کے دشمن ! بخدا تم نے جھوٹ کہا ہے۔جن کا تم نے نام لیا ہے وہ سب زندہ ہیں اور جو بات ناگوار ہے اس میں سے ابھی تیرے لیے بہت کچھ باقی ہے۔ابوسفیان بولا یہ معرکہ بدر کے معرکہ کا بدلہ ہے اور لڑائی تو ڈول کی طرح ہے کبھی اس کی فتح اور کبھی اس کی۔559 پھر بیت المال کے اموال کی حفاظت اور نگرانی میں کس حد تک محتاط تھے۔اس بارے میں روایت ہے۔زید بن اسلم کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے دودھ پیا۔آپ کو وہ پسند آیا۔کسی نے گلاس میں دودھ دیا، آپ نے پیا اور پسند آیا۔آپ نے اس شخص سے پوچھا جس نے آپ کو دودھ پلایا تھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ اس نے آپ کو بتایا کہ وہ ایک چشمہ پر گیا جس کا اس نے نام بھی لیا۔وہاں زکوۃ کے اونٹوں کو لوگ پانی پلا رہے تھے۔انہوں نے میرے لیے ان کا دودھ دوہا جس کو میں نے اپنے اس پانی پینے والے برتن میں ڈال لیا۔حضرت عمر بن خطاب نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈال کر قے کر کے اس کو نکال دیا۔560 کہ یہ زکوۃ کا مال ہے۔یہ میں نہیں پیوں گا۔براء بن مغرور کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ ایک روز حضرت عمر گھر سے نکلے یہاں تک کہ آپ منبر پر تشریف لائے۔آپ اس وقت بیمار تھے۔آپ کی اس بیماری کے لیے شہد تجویز کیا گیا۔بیت المال میں شہد کا برتن موجود تھا۔حضرت عمرؓ نے کہا اگر آپ لوگ مجھے اجازت دیں تو میں اسے لے لیتا ہوں ورنہ یہ مجھ پر حرام ہے تو لوگوں نے اس بارے میں آپ کو اجازت دے دی۔561 بیت المال کے اموال کی حفاظت کا کس قدر خیال تھا اس بارے میں یہ واقعہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔مختصر بیان کرتاہوں کہ ایک دو پہر کو شدید گرمی میں پیچھے رہ جانے والے دو اونٹوں کو خو د ہانک کر