اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 290
حاب بدر جلد 3 290 حضرت عمر بن خطاب کھلائے مگر مال کو جمع کرنے والا نہ ہو۔3 555 553 جب بھی موقع آیا حضرت عمرؓ نے قربانی کرنے میں بڑھنے کی کوشش کی۔وہ بھی موقع تھا جب آنحضرت صلی ا ہم نے مال کی قربانی کی تحریک فرمائی تو اپنا آدھا مال لے کر آگئے۔پہلے بھی یہ واقعہ بیان ہو چکا ہے۔لیکن خشیت الہی کا یہ حال تھا کہ جب فوت ہونے لگے تو آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور فرماتے تھے کہ میں کسی انعام کا مستحق نہیں ہوں۔میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ سزا سے بچ جاؤں۔554 یہ تھا آپ کا خشیت، خوف خدا کا حال۔حضرت عمرؓ کے دربار میں علم رکھنے والے خاص طور پر قرآن کریم کا علم رکھنے والوں کا بڑا مقام تھا چاہے وہ چھوٹی عمر کے نوجوان ہیں یا بچے ہیں یا بڑے ہیں۔بخاری میں ایک روایت ہے حضرت ابن عباس نے کہا عیینہ بن حصن بن حذیفہ مدینہ آئے اور اپنے بھتیجے حربن قیس کے پاس اترے اور حربن قیس ان لوگوں میں سے تھے جن کو حضرت عمر اپنے قریب بٹھایا کرتے تھے اور قاری یعنی قرآن کے عالم ہی، بڑی عمر کے ہوں یا جوان، مجلس میں حضرت عمرؓ کے قریب بیٹھنے والے تھے ، ان کو مشورہ دینے والے ہوتے تھے۔عیینہ نے اپنے بھتیجے سے کہا: اے بھتیجے! اس امیر کے پاس تمہاری وجاہت ہے۔اس لیے میرے لیے ان کے پاس آنے کی اجازت مانگو۔محر بن قیس نے کہا: میں تمہارے لیے ان کے پاس آنے کی اجازت لے لوں گا۔حضرت ابن عباس کہتے تھے چنانچہ ٹر نے عیینہ کے لیے اجازت مانگی اور حضرت عمر نے ان کو اجازت دی۔جب عیینہ ان کے پاس آیا تو اس نے کہا خطاب کے بیٹے یہ کیا بات ہے۔اللہ کی قسم ! نہ تو آپ ہم کو بہت مال دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان اور ہمارے مال کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرتے ہیں۔یہ سن کر حضرت عمرؓ ناراض ہو گئے یہاں تک کہ اس کو کچھ کہنے کو ہی تھے کہ محر نے حضرت عمرؓ سے عرض کیا امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی الیہ کم سے فرمایا ہے: 556 خُذِ الْعَفْوَ وَامُرُ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ (الاعراف : 200) یعنی اے نبی ! ہمیشہ عفو اختیار کر اور معروف کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کر اور یہ عیینہ جاہلوں میں سے ہی ہے۔اللہ کی قسم ! جب کر نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی تو حضرت عمر وہیں رک گئے اور کچھ نہیں کہا اور حضرت عمرؓ کتاب اللہ کو سن کر رک جاتے تھے۔حضرت خلیفہ اول حضرت عمرؓ کے دربار کا ایک واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ ”حضرت عمرؓ کے دربار میں ایک امیر آیا۔اس نے اس بات کو بہت مکر وہ سمجھا کہ ایک دس برس کا لڑکا بھی بیٹھا ہے کہ ایسی عالیشان بار گاہ میں لونڈوں کو کیا کام ؟ اتفاق سے حضرت عمر اس امیر کی کسی حرکت پر ناراض ہوئے۔جلاد کو بلایا۔وہی لڑکا پکار اٹھا: وَ الْعَظِمِينَ الْغَيْظَ (آل عمران : 135) اور پڑھا وَاَعْرِضْ عَنِ الْجُهِلِينَ (الاعراف: 200) اور کہا هذَا مِنَ