اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 289 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 289

صحاب بدر جلد 3 289 حضرت عمر بن خطاب حضرت خلیفتہ المسیح الاول بیان فرماتے ہیں کہ ”انسان کو چاہئے کہ اپنے خدا تعالیٰ کے واسطے خالصةً عبادت کرے پھر خواہ خلقت اس کو برا سمجھے یا بھلا اس امر کی پرواہ نہیں چاہئے اور اپنے ظاہر کو جان بوجھ کر بُرا بنانا آنحضرت رسول کریم صلی ال نیم کی سکھلائی ہوئی اس دعا سے ناجائز ثابت ہو تا ہے۔وہ دعا آنحضرت نے حضرت عمرؓ کو سکھلائی تھی اور اس طرح ہے اللهُمَّ اجْعَلُ سَرِيرَتي خَيْرًا مِّنْ عَلَانِيَّتِي وَاجْعَلْ عَلَانِيَّتِي صَالِحَةً اے اللہ ! میرے باطن کو میرے ظاہر سے بہتر بنا اور میرے ظاہر کو اچھا کر۔“ 550 حضرت عمر کا مسجد نبوی اور نماز کے آداب کا خیال رکھنا، اس بارے میں یہ روایت ہے۔حضرت سائب بن یزید سے روایت ہے۔وہ کہتے تھے کہ میں مسجد میں کھڑا تھا کہ ایک شخص نے مجھے ٹنکر ماری۔میں نے اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عمر بن خطاب ہیں۔انہوں نے کہا جاؤ ان دونوں کو میرے پاس لے آؤ۔دو شخص تھے جو اونچی اونچی باتیں کر رہے تھے۔میں ان دونوں کو لے آیا۔حضرت عمرؓ نے کہا تم دونوں کون ہو یا کہا تم کہاں سے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ہم طائف کے باشندوں میں سے ہیں۔اس پر حضرت عمر نے کہا کہ اگر تم اس شہر کے باشندے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا۔رسول اللہ صلی الیکم کی مسجد میں تم اپنی آوازیں بلند کرتے ہو۔551 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں حضرت عمر کا طریقہ یہ تھا کہ جب تک صفیں برابر نہیں ہوتی تھیں اس وقت تک اللہ اکبر نہیں کہتے تھے بلکہ صفیں سیدھی کروانے کے لیے ایک شخص مقرر فرمایا ہو ا تھا۔ابو عثمان مہدی نے کہا کہ میں نے حضرت عمرؓ کو دیکھا کہ جب نماز کے لیے اقامت ہوتی تو قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے یعنی لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے اے فلاں ! آگے ہو جاؤ اور اے فلاں ! پیچھے ہو جاؤ۔یعنی صفیں سیدھی کر رہے ہوتے تھے۔تم اپنی صفوں کو سیدھی رکھو۔جب صفیں سیدھی ہو جائیں تو پھر آپ قبلہ کی طرف منہ کر کے اللہ اکبر کہتے۔552 حضرت عمر کی مالی قربانی اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے بارے میں ایک روایت ہے۔اور بھی بہت ساری روایتیں ہیں۔حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے خیبر میں کچھ زمین حاصل کی اور وہ نبی صلی ال نیم کے پاس اس کے متعلق مشورہ کرنے آئے۔انہوں نے کہا یار سول اللہ ! میں نے خیبر میں زمین حاصل کی ہے۔میرے نزدیک اس سے بہتر مجھے کبھی کوئی جائیداد نہیں ملی۔آپ مجھے اس کے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہیں۔آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو اصل زمین وقف کر دو اور اس کی آمدنی غرباء پر خرچ کرو۔نافع کہتے تھے کہ پھر حضرت عمرؓ نے وہ صدقہ میں دے دی اس شرط پر کہ نہ وہ بیچی جائے اور نہ کسی کو ہبہ کی جائے، نہ ورثاء میں تقسیم کی جائے اور انہوں نے وہ زمین محتاجوں اور رشتہ داروں، غلاموں کے آزاد کرنے، اللہ کی راہ میں اور مسافروں اور مہمانوں کے لیے وقف کر دی اور جو زمین کا نگران ہو اس کے لیے کوئی ہرج نہیں کہ وہ اس میں سے دستور کے مطابق خود کھائے اور