اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 7 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 7

اصحاب بدر جلد 3 7 حضرت عمر بن خطاب اسلام کو عزت عطا کر۔ابن عمر کہتے ہیں کہ ان دونوں میں سے اللہ کو زیادہ محبوب حضرت عمرؓ تھے۔16 حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی علیم نے فرمایا: اللَّهُمَّ أَيْدِ الذِيْنَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ اے اللہ ! عمر بن خطاب کے ذریعہ سے دین کی تائید فرما۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللی انم نے فرمایا۔اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بن الخطاب خاصةً کہ اے اللہ ! خاص طور پر عمر بن خطاب کے ذریعہ اسلام کو عزت عطا کر۔17 حضرت عمرؓ کے اسلام لانے سے ایک دن پہلے رسول اللہ صلی نیلم نے یہ دعا فرمائی تھی۔اللَّهُمْ أَيْدِ الْإِسْلَامَ بِأَحَبَّ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ أَوْ عَمر و بن هِشَامٍ اے اللہ ! ان دولوگوں میں سے جو تجھے زیادہ محبوب ہے اس کے ذریعہ سے اسلام کی تائید فرما۔عمر بن خطاب یا عمر و بن ہشام۔محمد بنِ الْخَطَابِ أَوْ عَمر و بن هِشَامٍ عمر بن خطاب سے یا عمر و بن ہشام سے۔جب حضرت عمر نے اسلام قبول کیا تو حضرت جبرئیل نازل ہوئے اور کہا اے محمد ! عمر کے اسلام لانے سے آسمان والے بھی خوش ہیں۔طبقات الکبریٰ کی یہ روایت ہے۔18 حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کے بارے میں مزید یہ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ذوالحجہ 6/ نبوی میں اسلام قبول کیا تھا۔19 قبول اسلام کی وجہ بننے والے متعد دواقعات و روایات الله سة قبول اسلام کی وجہ بننے والے متعدد واقعات و روایات کتب حدیث اور سیرت میں مذکور ہیں۔اسلام قبول کرنے کے متعلق ایک روایت یہ ہے۔سیرۃ الحلبیة میں یہ روایت ہے کہ ایک مرتبہ ابو جہل نے لوگوں سے کہا کہ اے گروہ قریش ! محمد صلی یہ کہ تمہارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے اور تمہیں عقل ٹھہراتا ہے۔نیز تمہارے بزرگوں کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ جہنم کا ایندھن بن رہے ہیں۔اس لیے میں اعلان کرتا ہوں کہ جو شخص محمد علی ایم کو قتل کرے گا میری طرف سے وہ ایک سو سرخ و سیاہ اونٹوں اور ایک ہزار اوقیہ چاندی کے انعام کا حق دار ہو گا۔ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہو تا تھا یعنی تقریباً 126 گرام اور بعض کے نزدیک اس سے بھی زیادہ بنتی ہے لیکن بہر حال ایک بہت بڑی رقم تھی جو اس نے (اوقیہ جو ہے 126 گرام ہے تو یہ بہت بڑی رقم بنتی ہے ) انعام کے طور پر مقرر کی تھی اور ایک دوسری روایت جو ہے وہ اس طرح ہے کہ جو شخص محمد صلی اللہ ملک کو قتل کرے اس کو اتنے اوقیہ سونا اور اتنے اوقیہ چاندی اور اتنا مشک اور اتنے قیمتی کپڑے اور اس کے علاوہ دوسری بہت سی چیزیں دینے کا اعلان کیا۔یہ سن کر حضرت عمرؓ بولے کہ میں اس انعام کا حق دار بنوں گا۔لوگوں نے کہا بے شک عمرؓ یہ انعام تمہارا ہو گا۔اس کے بعد حضرت عمرؓ نے ان سے اس بارے میں باقاعدہ معاہدہ کیا۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں ننگی تلوار اپنے کندھے سے لٹکا کر رسول اللہ کی تلاش میں نکلا۔راستے میں ایک جگہ