اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 8

اصحاب بدر جلد 3 8 حضرت عمر بن خطاب سے گزرا جہاں ایک بچھڑ اذ بح کیا جارہا تھا۔میں نے اس بچھڑے کے پیٹ میں سے آواز سنی۔اے آل ذَرِیخ (دریخ اس بچھڑے کا نام تھا جو ذبح کیا جارہا تھا) ایک پکارنے والا پکار رہا ہے اور صاف آواز میں کہہ رہا ہے اور اس بات کی گواہی کی طرف بلا رہا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی علیکم اللہ کے رسول ہیں۔حضرت عمر “ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے آپ سے کہا اس میں میری طرف ہی اشارہ ہے۔اگر سیرۃ الحلبیہ کی یہ روایت صحیح ہے تو لگتا ہے کوئی کشفی نظارہ تھا جو آپ نے وہاں اس وقت دیکھا 20 یا کسی طرف سے آواز آئی۔تیسری روایت حضرت عمر کے اسلام قبول کرنے کے بارے میں جو ملتی ہے یہ ہے کہ حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ : م الله سة ایک دن میں حرم میں طواف کرنے کے ارادے سے آیا۔اس وقت رسول اللہ صلی الیم کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔آپ جب نماز پڑھا کرتے تھے تو ملک شام کی طرف منہ کر لیا کرتے تھے یعنی بیت المقدس کے پتھر کی طرف اس طرح کہ آپ کعبہ کو اپنے اور شام یعنی بیت المقدس کے درمیان کر لیا کرتے تھے۔اس طرح آپ کی نماز کی جگہ حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان ہوا کرتی تھی۔رکن یمانی کعبہ کا جنوب مغربی کو نہ ہے جو یمن کی طرف ہے کیونکہ اس کے بغیر بیت المقدس کا سامنا نہیں ہو تا تھا۔غرض حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ جب میں نے آنحضرت صلی اللہ تم کو دیکھا تو میں نے سوچا کہ آج کی رات میں بھی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا کلام سنوں کہ یہ کیا کہتے ہیں۔پھر میں نے سوچا کہ اگر میں سننے کے لیے ان کے قریب گیا تو میں انہیں ہوشیار کر دوں گا اس لیے میں حجر اسود کی طرف سے آیا اور خانہ کعبہ کے غلاف کے پیچھے ہو گیا اور آہستہ آہستہ چلنے لگا۔رسول اللہ صلی ال کی اسی طرح نماز میں مشغول رہے۔آنحضرت صلی ا لم نے سورۃ الرحمٰن کی تلاوت کی۔یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی علیم کے بالکل سامنے ہو گیا جس طرف آپ نے منہ کیا ہوا تھا۔میرے اور آپ کے درمیان غلاف کعبہ کے علاوہ کچھ نہ تھا۔جب میں نے قرآن کریم سنا تو میرا دل اس کی وجہ سے پگھل گیا اور میں رو پڑا اور اسلام میرے اندر داخل ہو گیا۔میں اسی طرح اپنی جگہ کھڑا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی علیم نے اپنی نماز مکمل کی اور وہاں سے واپس تشریف لے گئے تو میں آپ کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔رسول اللہ صلی الیم نے میرے پیروں کی آہٹ سنی تو مجھے پہچان لیا۔آپ صلی علیہم یہ سمجھے کہ میں آپ کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے آپ کا پیچھا کر رہا ہوں۔آپ نے مجھے ڈانٹا اور پھر کہا: اے ابن خطاب ! تم اتنی رات گئے کس ارادے سے آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا: میں اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس پر جو اللہ کی طرف سے آیا ہے ایمان لانے کے لیے آیا ہوں۔ایک چوتھی روایت جو ہے وہ اس طرح ملتی ہے کہ حضرت عمر کہتے ہیں ایک رات میری بہن کو درد زہ اٹھا تو میں گھر سے نکل آیا اور دعا کرنے کے لیے کعبہ کے پردوں کے ساتھ لپٹ گیا۔اس وقت نبی کریم صلی علیکم