اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 6
حاب بدر جلد 3 6 حضرت عمر بن خطاب ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”لیکن عورت کو یہ جس نہیں تھی۔اس عورت کو یہ خیال نہیں آیا۔یا تھی بھی تو اس نے سچائی سے کام لیا۔اس صحابیہ نے کہا عمر ا ہم تو مکہ چھوڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا تم مکہ چھوڑ رہی ہو ؟ صحابیہ نے کہا ہاں ہم مکہ چھوڑ رہے ہیں۔حضرت عمر نے پوچھا تم کیوں مکہ چھوڑ رہے ہو ؟ صحابیہ نے جواب دیا کہ عمرؓ ! ہم اس لئے مکہ چھوڑ رہے ہیں کہ تم اور تمہارے بھائی ہمارا یہاں رہنا پسند نہیں کرتے اور ہمیں خدائے واحد کی عبادت کرنے میں یہاں آزادی میسر نہیں۔اس لئے ہم وطن چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں جارہے ہیں۔اب باوجود اس کے کہ حضرت عمر اسلام کے شدید دشمن تھے۔باوجود اس کے کہ وہ خود مسلمانوں کو مارنے پر تیار رہتے تھے۔رات کے اندھیرے میں اس صحابیہ سے یہ جواب سن کر کہ ہم وطن چھوڑ رہے ہیں اس لئے کہ تم اور تمہارے بھائی ہمارا یہاں رہنا پسند نہیں کرتے اور ہمیں خدائے واحد کی عبادت آزادی سے نہیں کرنے دیتے حضرت عمرؓ نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔“ یہ بات سن کے ”اور اس صحابیہ کا نام لے کر کہا کہ اچھا جاؤ خدا تمہارا حافظ ہو۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر پر رقت کا ایسا جذبہ آیا کہ آپ نے خیال کیا کہ اگر میں نے دوسری طرف منہ نہ کیا تو مجھے رونا آجائے گا۔اتنے میں اس صحابیہ کے خاوند بھی آگئے۔وہ سمجھتے تھے کہ عمر! اسلام کے شدید دشمن ہیں۔انہوں نے جب آپ کو وہاں کھڑا دیکھا تو خیال کیا یہ ہمارے سفر میں کوئی روک پیدا نہ کر دیں۔انہوں نے اپنی بیوی سے دریافت کیا کہ یہ یہاں کیسے آگیا؟ اس نے بتایا کہ وہ اس اس طرح آیا تھا اور اس نے سوال کیا تھا کہ تم کہاں جارہے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی شرارت نہ کر دے۔“ اس وقت جانے لگے ہوں گے ، وہاں کھڑے دیکھا ہو گا۔اس کے بعد ان کے آنے سے پہلے ہی یا قریب پہنچنے سے پہلے ہی حضرت عمر وہاں سے روانہ ہو چکے تھے۔یا ان کے ملنے کے بعد روانہ ہوئے۔بہر حال انہوں نے کہا کوئی شرارت نہ کر دے۔” اس صحابیہ نے کہا کہ اے میرے چچا کے بیٹے ( عرب عور تیں عام طور پر اپنے خاوندوں کو چا کا بیٹا کہا کرتی تھیں) تم تو یہ کہتے ہو کہ وہ کہیں کوئی شرارت نہ کر دے مگر مجھے تو ایسا معلوم ہو تا ہے کہ اس نے کسی دن مسلمان ہو جاتا ہے کیونکہ جب میں نے کہا عمر ! ہم اس لئے مکہ چھوڑ رہے ہیں کہ تم اور تمہارے بھائی ہمیں خدائے واحد کی عبادت آزادی سے نہیں کرنے دیتے تو اس نے منہ پھیر لیا اور کہا۔اچھا جاؤ خدا تمہارا حافظ ہو۔اس کی آواز میں ارتعاش تھا اور میں سمجھتی ہوں کہ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ضرور کسی دن مسلمان ہو جائیگا۔حضرت عمرؓ کے اسلام قبول کرنے کے لیے آنحضور صلی ا ہم نے دعائیں بھی کی تھیں۔اس بارے میں روایت میں آتا ہے۔حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا۔اللَّهُمْ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبْ هُذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ اے اللہ ! تو ان دو اشخاص ابو جہل اور عمر بن خطاب میں سے اپنے زیادہ محبوب شخص کے ذریعہ 15"