اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 202
اصحاب بدر جلد 3 202 حضرت عمر بن خطاب آگے بڑھنا تھا کیونکہ پھر مومن کا قدم پیچھے نہیں اٹھتا۔رومیوں نے یہ خبر پاکر کہ حضرت عمرو کے ساتھ آنے والی فوج معمولی تعداد اور نا قابل ذکر جنگی تیاریوں میں ہے زیادہ دنوں تک محاصرہ نہیں کر سکتے جبکہ ہم ان سے زیادہ تعد اور رکھتے ہیں اور اس کی تیاری کر رہے ہیں اور انہیں پست کر کے لے جائیں گے۔تو رومیوں نے یہ خیال کیا اور وہ شہر میں قلعہ بند ہو گئے۔ادھر حضرت عمرو بن عاص کو رومیوں کی عسکری قوت کا علم ہو چکا تھا کہ اسلحہ اور تعداد میں کئی گنا ہم پر بھاری ہیں۔چنانچہ آپؐ نے فرما پر قابض ہونے کے لیے منصوبہ بنایا کہ اچانک حملہ کر کے فصیل کے دروازوں کو کھول دیا جائے یا پھر اس وقت تک صبر کے ساتھ محاصرہ جاری رکھا جائے جب تک کہ شہریوں کی خوراک ختم نہ ہو جائے اور بھوک سے بے تاب ہو کر باہر نہ نکل آئیں۔چنانچہ محاصرہ کر لیا۔ادھر مسلمانوں کا محاصرہ سخت سے سخت تر ہوتا جارہا تھا اور ادھر رومی بھی اپنی ضد سے پیچھے نہ ہٹ رہے تھے۔اس طرح محاصرہ کئی مہینے جاری رہا۔کبھی کبھی رومی فوج باہر آتی اور دو چار جھڑ ہیں کر کے پیچھے ہٹ جاتی۔ان جھڑپوں میں مسلمان ہی غالب رہتے۔ایک دن رومی افواج کی ایک جماعت بستی سے باہر نکل کر مسلمانوں سے لڑنے نکلی۔مقابلہ میں مسلمان غالب رہے اور رومی ہزیمت کھا کر بستی کی طرف بھاگے۔مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور دوڑنے میں کافی تیز روی کا ثبوت دیا اور کچھ لوگوں نے دروازوں تک رومیوں کے پہنچنے سے پہلے ہی وہاں پہنچ کر فصیل کا دروازہ کھول دیا اور فتح مبین کا رستہ صاف کر دیا۔345 فتح بلبيس، یہ کس طرح ہوئی۔فرما کے بعد حضرت عمرو بن عاص نے پلیٹس کا رخ کیا تو رومی فوج نے آپ کا راستہ روک لیا۔بلبيس فسطاظ سے تقریباً تیس میل دور شام کے رستے پر ایک شہر ہے۔بہر حال رستہ روک لیا تا کہ مسلمان بابلیوں کے قلعہ تک نہ پہنچ سکیں۔بابلیون نام قدیم لغت میں دیارِ مصر کے لیے استعمال ہوتا ہے بالخصوص جہاں فسطاط آباد ہوا اسے پہلے بابلیون کہا جاتا تھا۔رومی فوج یہیں لڑنا چاہتی تھی لیکن حضرت عمرو بن عاص نے ان سے کہا تم اس وقت تک جلدی نہ کرو جب تک ہم اپنی بات تمہارے سامنے رکھ نہ دیں تاکہ کل عذر و معذرت کی کوئی بات نہ رہ جائے۔پھر کہا کہ تم اپنے پاس سے ابو مریم اور ابو مریام کو میرے پاس سفیر بنا کر بھیجو۔چنانچہ وہ لوگ لڑنے سے رک گئے اور ان دونوں سفیروں کو بھیج دیا۔یہ دونوں سفیر اہل بلبیس کے راہب تھے۔حضرت عمرو نے ان کے سامنے اسلام لانے یا جزیہ دینے کی تجویز رکھی اور ساتھ اہل مصر کے بارہ میں رسول اللہ صلی اللہ ان کا یہ فرمان بھی پیش کیا کہ تم مصر کو فتح کرو گے۔وہ ایسا ملک ہے جہاں قیراط کا نام چلتا ہے۔پس جب تم اسے فتح کر چکو تو اس کے رہنے والوں سے احسان کا سلوک کرنا کیونکہ ان کے لیے ذمہ داری اور صلہ رحمی ہے یا فرمایا کہ ذمہ داری اور مصاہرت ہے۔ان دونوں سفیروں نے یہ بات سن کر کہا یہ بہت دور کا رشتہ ہے، اسے انبیاء ہی پورا کر سکتے ہیں۔ہمیں جانے دو۔ہم واپس آکے بتائیں گے۔حضرت عمرو بن عاص نے کہا مجھ جیسے شخص کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا ہے۔میں تمہیں تین دن کی مہلت دیتا ہوں آپ لوگ اچھی طرح معاملے پر غور کر لیں۔