اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 203
اصحاب بدر جلد 3 203 حضرت عمر بن خطاب دونوں سفیروں نے کہا کہ ایک دن کی اور مہلت دے دیں۔آپ نے انہیں مزید ایک دن کی مہلت دے دی۔دونوں سفیر لوٹ کر قبطیوں کے سردار مقوقس اور شاہ روم کی طرف سے مصر کے حاکم از طبون کے پاس آئے اور مسلمانوں کی بات ان کے سامنے رکھی۔از طبون نے ماننے سے انکار کر دیا اور جنگ کا پختہ ارادہ کر کے راتوں رات اس نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ارطبون کے اس لشکر کی تعداد بارہ ہزار بیان کی جاتی ہے۔مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد اس معرکے میں شہید ہوئی اور رومیوں کے ایک ہزار سپاہی قتل اور تین ہزار سپاہی گرفتار ہوئے اور از طبون میدان چھوڑ کر بھاگ گیا اور بعض نے کہا کہ وہ اسی جنگ میں مارا گیا۔مسلمانوں نے اسے اس کے لشکر سمیت اسکندریہ تک شکست دی۔مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ مسلمان پلیس میں ایک مہینہ تک رہے۔اس دوران لڑائی ہوتی رہی اور آخر میں فتح مسلمانوں کو ہوئی لیکن اس امر میں ان کا اختلاف ہے کہ یہ جنگ شدید تھی یا کم۔اس جنگی کشمکش کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو مسلمانوں کی دانش مندی اور اخلاقی برتری کی دلیل ہے۔واقعہ یوں ہے کہ جب بلبیس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی تو اس میں مقوقس کی لڑکی گرفتار ہوئی جس کا نام آزمانُوسہ تھا۔وہ اپنے باپ کی چہیتی بیٹی تھی۔اس کا باپ قسطنطين بن هِرقُل سے اس کی شادی کرنا چاہتا تھا۔وہ اس شادی پر راضی نہیں تھی۔اس لیے وہ اپنی 346 خادمہ کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے بلبیس آئی ہوئی تھی۔بہر حال جب مسلمانوں نے اسے گرفتار کیا تو حضرت عمرو بن عاص نے تمام صحابہ کرام کی ایک مجلس بلائی اور انہیں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنایا کہ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن: 61) کیا احسان کی جزا احسان کے سوا کچھ اور بھی ہو سکتی ہے ؟ پھر اس آیت یعنی هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ کے حوالے سے کہا کہ مقوقس نے ہمارے نبی صلی الیوم کے پاس ہدیہ بھیجا تھا۔میری رائے ہے کہ اس لڑکی اور اس کے ساتھ جو دیگر خواتین ہیں اور اس کے خدمت گزار ہیں اور جو مال ہمیں ملا ہے وہ سب کچھ مقوقس کے پاس بھیج دو۔سب نے عمرو بن عاص کی رائے کو درست قرار دیا۔پھر عمر و بن عاص نے مقوقس کی بیٹی آزمانُوسہ کو اس کے تمام جواہرات، دیگر خواتین اور خدمت گزاروں کے ساتھ نہایت عزت و احترام سے اس کے باپ کے پاس بھیج دیا۔واپس ہوتے ہوئے اس کی خادمہ نے آزمائوسہ سے کہا ہم ہر طرف سے عربوں کے گھیرے میں ہیں۔آزمانُو سہ نے کہا میں عربی خیمے میں جان اور عزت کو محفوظ سمجھتی ہوں لیکن اپنے باپ کے قلعہ میں اپنی جان کو محفوظ نہیں بجھتی۔پھر جب وہ اپنے باپ کے پاس پہنچی تو اس کے ساتھ مسلمانوں کا برتاؤ دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا۔347 پھر اُم دُرین ایک جگہ ہے، وہاں کی فتح کا ذکر ہے۔ہلبیس کی فتح کے بعد حضرت عمر و بن عاص صحرا کی سرحد پر پیش قدمی کرتے ہوئے اُم دُنین کی بستی کے قریب جا پہنچے جو دریائے نیل پر خلیج تر اجان