اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 201 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 201

صحاب بدر جلد 3 201 حضرت عمر بن خطاب ضمن میں یہ واقعہ بیان کیا۔اب فتوحات مصر کا ذکر کرتا ہوں۔اس میں ایک جنگ فَرَما تھی۔فَرَمَا مصر کا ایک مشہور شہر تھا۔یہ بحیرہ روم اور تلوزی کے دہانے کے قریب جو دریائے نیل کی سات شاخوں میں سے ایک شاخ تھی ایک پہاڑی پر آباد تھا۔342 علامہ شبلی نعمانی کے مطابق بیت المقدس کی فتح کے بعد حضرت عمرو بن عاص کے اصرار پر حضرت عمر نے حضرت عمرو بن عاص کو چار ہزار کا لشکر دے کر مصر کی طرف روانہ کیا لیکن ساتھ یہ بھی حکم دیا کہ اگر مصر پہنچنے سے پہلے میرا خط ملے تو واپس لوٹ آنا۔عربیش پہنچے تھے کہ حضرت عمر کا خط پہنچا۔اگر چہ اس میں آگے بڑھنے سے روکا تھا لیکن چونکہ شرطیہ حکم تھا اس لیے حضرت عمرو نے کہا کہ اب تو ہم مصر کی حد میں آچکے ہیں اور عَرِیش سے چل کر فرما پہنچے۔343 اسلامی جنگوں پر مشتمل ایک کتاب ہے الاكتفاء۔اس میں لکھا ہے کہ جب حضرت عمرو بن عاص رفح مقام تک پہنچے تو آپ کو حضرت عمر کا خط ملا تھا لیکن آپ نے اس ڈر سے کہ اس خط میں واپس لوٹنے کا حکم نہ ہو جیسا کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا قاصد سے خط نہ لیا اور چلتے رہے یہاں تک کہ آپ رفتح اور عریش کے درمیان ایک چھوٹی بستی میں پہنچے اور اس کے متعلق پوچھا۔بتایا گیا کہ یہ مصر کی حدود میں ہے۔پس آپ نے خط منگوایا اور اسے پڑھا اور اس میں لکھا تھا کہ آپ کے ساتھ جو مسلمان ہیں انہیں لے کر واپس لوٹ آئیں تو آپ نے اپنے ہمراہ لوگوں سے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ یہ مصر میں ہے۔انہوں نے کہا جی ہاں۔تو آپ نے کہا کہ امیر المومنین نے حکم دیا ہے کہ اگر مجھے ان کا خط مصر کی سر زمین تک پہنچنے سے پہلے مل جائے تو میں واپس لوٹ آؤں اور مجھے یہ خط مصر کی سرزمین میں داخل ہونے کے بعد ملا ہے۔پس اللہ کا نام لے کر چلو۔اور ایک اور روایت میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت عمرو بن عاص فلسطین میں تھے اور وہ بلا اجازت اپنے ساتھیوں کو لے کر مصر چلے گئے۔یہ بات حضرت عمر کو ناگوار گزری۔پس حضرت عمرؓ نے انہیں خط لکھا۔حضرت عمر کا خط حضرت عمر و کو اس وقت ملا جب وہ عریش کے قریب تھے۔پس آپ نے وہ خط نہ پڑھا یہاں تک کہ آپ عربیش پہنچ گئے۔پھر آپ نے خط پڑھا۔اس میں لکھا تھا کہ عمر بن خطابے کی طرف سے عمرو بن عاص کے نام۔اَماً بَعْدُ، یقینا تم مصر اپنے ساتھیوں کے ساتھ گئے ہو اور وہاں رومیوں کی بڑی تعداد ہے اور تمہارے ساتھ تھوڑے لوگ ہیں۔میری عمر کی قسم! اللہ تمہارا بھلا کرے۔بہتر ہو تا اگر تم انہیں ساتھ نہ لے جاتے۔پس اگر تم مصر نہیں پہنچے تو واپس لوٹ آؤ۔44 اس سفر میں فرما سے پہلے اسلامی لشکر کی کسی بھی رومی سپاہی سے ملاقات نہ ہوئی تھی بلکہ جگہ جگہ مصریوں نے ان کا استقبال کیا تھا اور سب سے پہلے فرما میں محاذ آرائی ہوئی تھی۔یہ تو مختلف روایتیں ہیں لیکن وہی روایت صحیح لگتی ہے کہ عریش مصر کی حدود میں پہنچنے کے بعد ان کو خط ملا۔نہیں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ بہانے بنائے جائیں کہ ہم مصر پہنچیں گے تو خط کھولوں گا۔بہر حال جب وہ مصر پہنچ گئے تھے تو پھر 344