اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 191 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 191

محاب بدر جلد 3 191 حضرت عمر بن خطاب 327 اور حضرت ابو بکر جس طرح میں ان کے ساتھ رہا تھا اسی حال میں رہوں گا اور میں لوگوں کے لیے زینت اور زیبائش نہیں اختیار کروں گا کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا کرنا مجھے میرے رب کے ہاں عیب دار نہ کر دے اور میں نہیں چاہتا کہ لوگوں کے ہاں تو میر امعاملہ عظمت اختیار کر جائے اور اللہ کے حضور بہت چھوٹا ہو جائے۔پس حضرت عمرؓ اسی حالت پر قائم رہے جس پر رسول اللہ صلی یکم اور حضرت ابو بکر کی زندگی میں تھے یہاں تک کہ وہ دنیا سے کوچ کر گئے۔مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان صلح نامہ کس طرح ہوا؟ اہل ایلیا کے نزدیک معاہدہ کہاں ہوا تھا؟ اس کے متعلق اکثر مورخین نے لکھا ہے کہ جابیہ کے مقام پر عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان صلح کا معاہدہ طے پایا تھا۔لکھا ہے کہ جابیہ میں قیام کے دوران حضرت عمر فوج کے حلقے میں بیٹھے تھے کہ اچانک کچھ سوار نظر آئے جو گھوڑے دوڑاتے ہوئے آرہے تھے اور ان کی تلواریں چمک رہی تھیں۔مسلمانوں نے فورا ہتھیار سنبھال لیے۔حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ لوگوں نے سواروں کی طرف اشارہ کیا تو آپ نے فرمایا: گھبر اؤ نہیں یہ لوگ امان طلب کرنے آئے ہیں۔یہ لوگ ایلیا کے باشندے تھے۔آپ نے انہیں صلح نامہ لکھ کر دیا۔328 پھر ایک روایت ہے۔علامہ بلاذری اور محمد حسین ہیکل نے یہ لکھا ہے کہ صلح کا معاہدہ جابیہ کے بجائے ایلیا میں ہوا تھا تا ہم محمد حسین ہیکل نے اپنی کتاب میں دوسری جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ معاہدہ جابیہ میں ہو ا تھا۔329 مسلمانوں اور اہل ایلیا کے درمیان جو صلح نامہ ہوا اس کی تحریر تاریخ طبری میں یوں درج ہے:۔بسم اللہ الرحمن الرحیم۔یہ وہ امان ہے جو اللہ کے بندے امیر المومنین عمر نے ایلیا والوں کو دی ہے۔ان کی جان، مال، گرجے ، صلیب، بیمار، تندرست اور ان کی ساری قوم کو امان دی جاتی ہے۔کوئی بھی ان کے گرجاگھروں میں قیام نہیں کرے گا اور نہ وہ گرائے جائیں گے۔نہ ان کے گرجاگھروں کے احاطوں میں کچھ کمی کی جائے گی اور نہ ان کی صلیب کو نقصان پہنچایا جائے گا اور نہ ان کے اموال کو نقصان پہنچایا جائے گا۔اور ان سے دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں کیا جائے گا اور ان میں سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی جائے گی اور ایلیا میں ان کے ساتھ کوئی بھی یہودی نہیں رہ سکے گا اور اہل ایلیا پر یہ فرض ہے کہ وہ دوسرے شہروں کے باشندوں کی طرح جزیہ دیں۔ان کو چاہیے کہ وہ رومیوں اور فسادیوں کو ایلیا میں سے نکال دیں۔پس جو اُن میں سے نکلے گا تو اس کے جان و مال کو امن ہے یہاں تک کہ وہ اپنے محفوظ مقام تک پہنچ جائے۔اور جو شخص ان میں سے ایلیا میں رہنا چاہے تو وہ امن میں ہے اور اس کو اہل ایلیا کی طرح جزیہ دینا ہو گا اور اہل ایلیا میں سے جو شخص اپنی جان اور مال لے کر رومیوں کی طرف جانا چاہے اور وہ اپنی عبادت گاہوں اور صلیبوں کو چھوڑ کر چلے جائیں تو ان کی جانیں اور ان کی عبادت گاہیں، ان کی صلیبیں امان میں ہیں۔( چھوڑ بھی جاؤ گے تو کچھ نہیں کیا جائے گا) یہاں تک کہ وہ