اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 192
حاب بدر جلد 3 192 حضرت عمر بن خطاب اپنے محفوظ مقام تک پہنچ جائیں اور ایلیا میں جنگ سے پہلے جو کاشتکار تھے اگر ان میں سے کوئی چاہے کہ وہ اپنی زمینوں پر بیٹھے رہیں تو ان پر بھی اہل ایلیا کی طرح جزیہ دینا ہو گا اور جو رومیوں کے ساتھ جانا چاہتا ہے وہ چلا جائے اور جو اپنے گھر والوں کی طرف لوٹنا چاہتا ہے تو وہ لوٹ آئے، ان سے کچھ جزیہ نہیں لیا جائے گا یہاں تک کہ ان کی فصلوں کی کٹائی ہو جائے۔(یعنی کہ آمد پیدا ہو جائے گی تب ان سے جزیہ ہو گا) اور جو کچھ اس معاہدے میں ہے اس پر اللہ کا عہد ہے اور اس کے رسول کا ذمہ ہے اور خلفاء کا ذمہ ہے اور مومنین کا ذمہ ہے جب تک کہ وہ جزیہ ادا کرتے رہیں جو ان کے ذمہ ہے۔اس معاہدے پر حضرت خالد بن ولید، حضرت عمر و بن عاص حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت معاویہ بن ابو سفیان کی گواہی ثبت تھی۔تاریخ ابن خلدون میں لکھا ہے کہ اس معاہدے سے چند باتیں ثابت ہوتی ہیں ؛ نمبر ایک یہ کہ مسلمانوں نے اپنا مذ ہب تلوار کے زور سے نہیں پھیلایا؛ دویہ کہ ان کے عہد حکومت میں دوسرے مذاہب والوں کو بہت بڑی مذہبی آزادی حاصل تھی؛ تین یہ کہ غیر قوموں سے زبر دستی جزیہ نہیں لیا جاتا تھا۔ان 330 کو قیام کرنے اور جزیہ دینے میں اختیار حاصل تھا اور دونوں صورتوں میں ان کو امن دیا گیا تھا۔331 اس صلح کی خبر جب اہل رملہ کو ملی تو وہ بھی امیر المومنین سے اسی قسم کا معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہو گئے۔یہی حال فلسطین کے دوسرے لوگوں کا تھا۔لڑ والوں کو حضرت عمرؓ کی طرف سے ایک مکتوب لکھا گیا جس کے دائرہ نفاذ میں وہ شہر بھی شامل کر لیے گئے جنہوں نے اس کے بعد مسلمانوں کی اطاعت قبول کر لی۔اس خط میں حضرت عمر نے لڑ کے باشندوں کے جان ومال، گر جا، صلیب، تندرست، بیمار اور تمام مذاہب کو امان دی اور کہا کہ اگر وہ شام کے شہروں کی طرح جزیہ ادا کریں گے تو ان کے مذہب پر جبر نہیں کیا جائے گا اور نہ اختلافی عقائد کی بنا پر کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ان تمام کاموں سے فارغ ہو کر امیر المومنین نے فلسطین پر دو حاکم مقرر فرمائے اور ملک کا آدھا آدھا حصہ ان دونوں میں بانٹ دیا۔چنانچہ عَلْقَبَہ بن حکیم کا مرکز حکومت رَمَلَہ قرار پایا اور عَلْقَمَہ بن مُجزَزْ کا ایلیا۔حضرت عمر بیت المقدس میں تشریف لائے: 332 اس کے بارے میں لکھا ہے کہ جس وقت حضرت عمرؓ نے ایلیا والوں کو پناہ اور امان دی اور ایلیا میں لشکر کو ٹھہرادیا تو آپ جابیہ سے بیت المقدس کی جانب چل پڑے۔لکھا ہے کہ جب آپ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ نے محسوس کیا کہ آپ کا گھوڑا پاؤں میں درد کی وجہ سے سیدھا نہیں چل رہا۔حضرت عمرؓ کے لیے ایک ترکی نسل کا گھوڑا لایا گیا۔آپ اس پر سوار ہوئے تو وہ اڑی کرنے لگا۔آپ اس سے اتر آئے۔پھر حضرت عمر نے چند روز بعد اپنا گھوڑا طلب کیا جس پر آپ نے سواری ترک کی ہوئی تھی۔اس کا علاج ہو رہا تھا۔پھر آپ اس پر سوار ہوئے یہاں تک کہ بیت المقدس تشریف لے گئے۔333