اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 190 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 190

تاب بدر جلد 3 190 حضرت عمر بن خطاب اس سفر میں حضرت عمرؓ کے ہمراہ دیگر مہاجرین اور انصار کے علاوہ حضرت عباس بن عبد المطلب بھی تھے۔اس سفر کے متعلق ایک روایت ملتی ہے کہ ابو سعید مقبری سے روایت ہے کہ حضرت عمر اپنے اس سفر میں صبح کی نماز پڑھنے کے بعد اپنے ساتھیوں کے لیے تشریف فرما ہوتے اور ان کی طرف اپنارخ کرتے۔پھر کہتے ہر قسم کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے ہمیں اسلام اور ایمان کے ذریعہ عزت بخشی اور محمد صلی علیکم کے ذریعہ ہمیں شرف بخشا اور ہمیں آپ کے ذریعہ گمراہی سے ہدایت فرمائی اور گروہوں میں تقسیم کے بالمقابل ہمیں اکٹھا کیا اور ہمارے دلوں میں الفت پیدا کی اور دشمنوں کے بالمقابل آپ کے ذریعہ ہماری نصرت فرمائی اور ہمیں مختلف شہروں میں متمکن کیا اور آپ کے ذریعہ ہمیں آپس میں محبت کرنے والے بھائی بھائی بنا دیا۔پس تم لوگ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرو اور اس سے مزید مدد طلب کرو اور ان نعمتوں پر اللہ سے شکر کی توفیق مانگو اور وہ نعمتیں جن میں تم چلتے پھرتے ہو ان کے متعلق اللہ تعالیٰ سے دعامانگو کہ وہ تم پر انہیں پورا کر دے کیونکہ اللہ عزوجل اپنی جانب رغبت چاہتا ہے اور وہ شکر گزاروں پر اپنی نعمتوں کو مکمل کرتا ہے۔حضرت عمرؓ اپنے اس سفر کے دوران آغاز سے لے کر واپس تشریف لانے تک اس قول کو ہر صبح کہتے رہے اور اسے ترک نہ کیا۔325 یعنی یہی ایک ہی پیغام روزانہ دیتے تھے۔مسلمان سرداروں کو اطلاع دی جاچکی تھی کہ جابیہ میں آ کر ان سے ملیں۔اطلاع کے مطابق یزید بن ابی سفیان اور خالد بن ولید و غیرہ نے یہیں استقبال کیا۔شام میں رہ کر ان افسروں میں عرب کی سادگی باقی نہیں رہی تھی۔چنانچہ حضرت عمرؓ کے سامنے یہ لوگ آئے تو اس ہیئت سے آئے کہ بدن پر حریر اور دیباج کی چکنی اور پر تکلف قبائیں تھیں اور زرق برق پوشاک اور ظاہری شان و شوکت سے منجمی معلوم ہوتے تھے۔حضرت عمر کو سخت غصہ آیا۔گھوڑے سے اتر پڑے اور سنگ ریزے اٹھا کر ان کی طرف پھینکے کہ اس قدر جلد تم نے عجمی عادتیں اختیار کر لیں۔ان لوگوں نے عرض کیا کہ قباؤں کے نیچے ہتھیار ہیں یعنی سپہ گرمی کا جو ہر انہوں نے ہاتھ سے نہیں دیا۔پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو ٹھیک ہے۔26 کہ ظاہری رکھ رکھاؤ تم نے ان لوگوں کو دکھانے کے لیے کیا ہے اور اندر سے تمہارا حلیہ عربوں والا ہی ہے ( تو ٹھیک ہے ) ایک روایت میں مذکور ہے کہ یزید بن ابی سفیان نے عرض کیا۔اے امیر المومنین ! ہمارے پاس کپڑے اور سواریاں بہت ہیں اور ہمارے ہاں زندگی بہت عمدہ ہے اور مال بہت سستا ہے اور مسلمانوں کا وہ حال ہے جسے آپ پسند فرماتے ہیں۔اگر آپ یہ سفید کپڑے پہنیں اور ان عمدہ سواریوں پر سوار ہوں اور اس بہت زیادہ اناج اور غلہ میں سے مسلمانوں کو کھانے کے لیے دیں تو ایسا کرنا شہرت کا باعث ہو گا اور امور سلطنت کی ادائیگی میں آپ کے لیے زیادہ زینت کا باعث ہو گا اور عجمیوں کے نزدیک آپ کی زیادہ عظمت کا موجب ہو گا۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا اے یزید ! نہیں۔اللہ کی قسم ! میں اس ہیئت اور حالت کو ترک نہیں کروں گا جس پر میں نے اپنے دونوں ساتھیوں کو چھوڑا تھا یعنی آنحضرت صلی اللہ یکم