اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 189 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 189

حاب بدر جلد 3 189 حضرت عمر بن خطاب حضرت ابو عبیدہ اور حضرت خالد شام کی فتح سے فارغ ہو چکے تھے۔حضرت عمرؓ نے ان دونوں کو حکم بھیجا کہ جابیہ میں آکر ملیں تاکہ حضرت عمران سے اور فوج کے دوسرے سرداروں سے مشورے کے بعد بیت المقدس کی مہم سر کرنے کی کوئی مفید ترین راہ تلاش کر سکیں۔آخر بُون اور صفر نیوس کو حضرت عمرؓ کی تشریف آوری کا علم ہوا۔“ یہاں ناموں کا اختلاف ہے۔عربی کتب میں یہ نام از طبون لکھا ہے لیکن ہیکل کے نزدیک وہ درست نہیں ہے اس کی تحقیق کے مطابق نام آظربون ہے اور صَفْرُو نیوس کا نام عربی کتب میں صَفْرُو نیوس لکھا ہے۔بہر حال یہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے کوئی رستہ تلاش کرنے کے لیے کہ کیا سٹرپنجی (strategy) بنائی ہے اس کے لیے اکٹھا کیا تھا۔”حضرت ابو عبیدہ اور حضرت خالد کے ہاتھوں شام پر جو بیتی تھی اس کی بھی اطلاع ملی تو انہوں نے سمجھ لیا یعنی ان دو سر داروں نے جو دشمنوں کے تھے کہ بیت المقدس کی مقاومت اب زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔یعنی مزید مقابلہ مشکل ہے ”چنانچہ انظر بون تو کچھ فوج لے کر چپکے سے مصر کھسک گیا اور بوڑھے پادری نے اپنی نجات کی طرف سے مطمئن ہو کر مسلمانوں سے صلح کی گفتگو شروع کر دی اور چونکہ اسے یہ معلوم تھا کہ امیر المومنین جابیہ میں اقامت فرما ہیں“ جابیہ تک آ چکے ہیں اس لئے یہ شرط لگادی کہ صلح کا معاہدہ لکھنے کے لئے وہ خود تشریف لائیں۔جابیہ اور بیت المقدس میں اتنا فاصلہ نہ تھا کہ صفر نیوس کی اس درخواست کے جواب میں عذر پیش کر دیا جاتا۔تو یہ کہتے ہیں کہ ”یہ ہے وہ بات جسے میں صحیح سمجھتا ہوں اور جو شام و فلسطین پر حملے سے متعلق واقعات کے سلسلے میں تاریخی سیاق و سباق کے مطابق ہے۔بہر حال ان خطوط کے ملنے کے بعد حضرت عمرؓ کی کیا مشاورت ہوئی؟ اس بارے میں لکھا ہے کہ خطوط کے ملنے کے بعد حضرت عمرؓ نے تمام معزز صحابہ کو جمع کیا اور مشاورت کی۔حضرت عثمان نے رائے دی کہ عیسائی مرعوب اور شکستہ دل ہو چکے ہیں۔آپ ان کی درخواست کو رڈ کر دیں تو ان کو اور بھی ذلت ہو گی اور یہ سمجھ کر کہ مسلمان ان کو بالکل حقیر سمجھتے ہیں بغیر شرط کے ہتھیار ڈال دیں گے لیکن حضرت علی نے اس کے خلاف رائے دی اور حضرت عمرؓ کو ایلیا جانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ مسلمانوں نے سردی، جنگ اور لمبے قیام کی غیر معمولی مشقت برداشت کی ہے۔اگر آپ تشریف لے جائیں گے تو اس میں آپ کے اور مسلمانوں کے لیے امن و عافیت اور بہتری ہے لیکن اگر آپ نے انہیں اپنی اور صلح کی طرف سے مایوس کر دیا تو یہ بات آپ کے حق میں اچھی ثابت نہیں ہو گی۔دشمن تو قلعہ بند ہو کر بیٹھ رہیں گے اور انہیں اپنے ملک اور رومی بادشاہ کی طرف سے کمک پہنچ جائے گی خاص طور پہ اس لیے کہ بیت المقدس ان کے نزدیک بڑی عظمت رکھتا ہے اور ان کی زیارت گاہ ہے۔حضرت عمر نے حضرت علی کی رائے کو پسند اور قبول فرمایا۔4 324 32366