اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 178

اصحاب بدر جلد 3 178 حضرت عمر بن خطاب حال کی طرح ہے۔اسے یعنی آدم کو اس نے خشک مٹی سے پیدا کیا۔پھر اس کے متعلق کہا کہ تو وجود میں آجا تو وہ وجود میں آنے لگا۔اے اہل کتاب! تو اپنے دین کے معاملے میں غلو سے کام نہ لو اور اللہ کے متعلق سچی بات کے سوا کچھ نہ کہو۔مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کا صرف ایک رسول اور اس کی ایک بشارت تھا جو اس نے مریم پر نازل کی تھی اور اس کی طرف سے ایک رحمت تھا۔اس لیے تم اللہ پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لاؤ اور یوں نہ کہو کہ خدا تین ہیں۔اس امر سے باز آجاؤ۔یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا۔اللہ ہی اکیلا معبود ہے۔وہ اس بات سے پاک ہے کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اللہ کی حفاظت کے بعد اور کسی کی حفاظت کی ضرورت نہیں۔مسیح ہر گز اس امر کو برا نہیں منائے گا کہ وہ اللہ کا ایک بندہ متصور ہو اور نہ ہی مقرب فرشتے اسے برا منائیں گے۔بہر حال ترجمہ کرنے والے نے ان آیات کا ترجمہ کیا تو جارج جو قاصد تھا بے اختیار پکار اٹھا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ عیسی کے یہی اوصاف ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تمہارا پیغمبر سچا ہے۔یہ کہہ کر اس نے کلمہ توحید پڑھا اور مسلمان ہو گیا اور وہ اپنی قوم کے پاس واپس نہیں جانا چاہتا تھا لیکن حضرت ابوعبیدہ نے اس خیال سے کہ رومیوں کو بد عہدی کا گمان نہ ہو اُسے مجبور کیا اور کہا کہ کل یہاں سے ہمارا جو سفیر جائے گا اس کے ساتھ واپس چلے آنا، ابھی تم واپس جاؤ۔خالد بن ولید رومیوں کے لشکر میں دوسرے دن حضرت خالد رومیوں کی لشکر گاہ میں گئے۔رومیوں نے اپنی شوکت دکھانے کے لیے پہلے سے ہی انتظام کر رکھا تھا کہ راستے کے دونوں جانب دور تک سواروں کی صفیں قائم تھیں جو سر سے پاؤں تک لوہے میں غرق تھے لیکن حضرت خالد نے اس بے پرواہی اور تحقیر کی نگاہ سے ان پر نظر ڈالی اور اس طرح نظر ڈالتے جاتے تھے جس طرح شیر بکریوں کے ریوڑ کو چیر تا چلا جاتا ہے۔باہان کے خیمے کے پاس پہنچے تو اس نے نہایت احترام کے ساتھ استقبال کیا اور لا کر اپنے پاس اپنے برابر بٹھایا۔مترجم کے ذریعہ سے گفتگو شروع ہوئی۔باتھان نے معمولی بات چیت کے بعد لیکچر کے طریقے پر تقریر شروع کی۔حضرت عیسیٰ کی تعریف کے بعد قیصر کا نام لیا اور فخر سے کہا کہ ہمارا بادشاہ تمام بادشاہوں کا شہنشاہ ہے۔مترجم نے ان الفاظ کا ابھی پورا ترجمہ نہیں کیا تھا کہ خالد نے باتھان کو روک دیا اور کہا کہ تمہارا بادشاہ ایسا ہی ہو گا لیکن ہم نے جس کو سر دار بنایا ہے اس کو ایک لمحے کے لیے بھی اگر بادشاہی کا خیال آئے تو ہم فوراً اس کو معزول کر دیں۔باھان نے پھر تقریر شروع کی اور اپنی جاہ و دولت کا فخر بیان کر کے کہا۔اہل عرب ! تمہاری قوم کے لوگ ہمارے ملک میں آکر آباد ہوئے۔ہم نے ہمیشہ ان کے ساتھ دوستانہ سلوک کیے۔ہمارا خیال تھا کہ ان مراعات کا تمام عرب ممنون ہو گا لیکن خلاف توقع تم ہمارے ملک پر چڑھ آئے اور چاہتے ہو کہ ہم کو ہمارے ملک سے نکال دو۔تمہیں معلوم نہیں کہ بہت سی م