اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 177
اصحاب بدر جلد 3 177 حضرت عمر بن خطاب سر و سامان سے نکلے تھے۔دولاکھ سے زیادہ جمعیت تھی اور چوبیس صفیں تھیں جن کے آگے آگے ان کے مذہبی پیشوا ہا تھوں میں صلیبیں لیے جوش دلاتے جاتے تھے۔فوجیں بالمقابل آئیں تو ایک بطریق صف چیر کر نکلا اور کہا کہ میں تنہا لڑنا چاہتا ہوں۔بطرِیق عیسائیوں کے مذہبی پیشواؤں کو کہتے ہیں۔میسرہ بن مسروق نے گھوڑا بڑھایا مگر چونکہ حریف نہایت تنومند اور جوان تھا۔خالد نے روکا اور قیس بن جبیرہ کی طرف دیکھا۔وہ شعر پڑھتے ہوئے آگے بڑھے۔قیس اس طرح جھپٹ کر پہنچے کہ بطریق ہتھیار بھی نہیں سنبھال سکا اور ان کا وار چل گیا۔تلوار سر پر پڑی اور خود کو کاٹتی ہوئی گردن تک اتر گئی۔بطریق ڈگمگا کر گھوڑے سے گرا۔ساتھ ہی مسلمانوں نے تکبیر کا نعرہ بلند کیا۔خالد نے کہا شگون اچھا ہے اور اب خدا نے چاہا تو آگے فتح ہماری ہے۔عیسائیوں نے خالد کے ہمرکاب افسروں کے مقابلے میں جدا جدا فوجیں متعین کیں لیکن سب نے شکست کھائی اور اس دن یہیں تک نوبت پہنچی کہ لڑائی ملتوی ہو گئی۔رومی قاصد جارج کا اسلام قبول کرنا۔رومیوں نے جب دیکھا کہ ہم تو شکست کھا رہے ہیں تو رات کو رومیوں کے سپہ سالار بابان نے سرداروں کو جمع کر کے کہا کہ عربوں کو شام کی دولت کا مزہ پڑ چکا ہے۔بہتر یہ ہے کہ مال وزر کی طمع دلا کر ان کو یہاں سے ٹالا جائے بجائے جنگ کرنے کے۔سب نے اس رائے سے اتفاق کیا۔دوسرے دن ابوعبیدہ کے پاس قاصد بھیجا کہ کسی معزز افسر کو ہمارے پاس بھیج دو۔ہم اس سے صلح کے متعلق گفتگو کرنی چاہتے ہیں۔ابو عبیدہ نے خالد کا انتخاب کیا۔قاصد جو پیغام لے کر آیا اس کا نام جارج تھا۔اردو سیرت نگاروں نے جارج لکھا ہے لیکن عرب دانوں کے لیے میں بتا دوں کہ عربی کتب میں اس کا نام جزجة بیان ہوا ہے۔بہر حال جس وقت وہ پہنچا اس وقت شام ہو چکی تھی۔ذرا دیر کے بعد مغرب کی نماز شروع ہوئی۔مسلمان جس ذوق و شوق سے تکبیر کہہ کر کھڑے ہوئے اور جس محویت اور سکون اور وقار اور ادب و خضوع سے انہوں نے نماز ادا کی۔قاصد نہایت حیرت و استعجاب کی نگاہ سے دیکھتا رہا یہاں تک کہ جب نماز ہو چکی تو اس نے ابو عبیدہ سے چند سوالات کیے جن میں ایک یہ تھا کہ تم عیسی کی نسبت کیا اعتقاد رکھتے ہو۔ابوعبیدہ نے قرآن کی یہ آیتیں پڑھیں کہ إِنَّ مَثَلَ عِیسٰی عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (آل عمران :60) يَاهْلَ الْكِتَبِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقِّ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ الْقُهَا إِلى مَرْيَمَ وَ رُوحُ مِنْهُ فَامِنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَلَا تَقُولُوا ثَلَثَةٌ اِنْتَهُوا خَيْرًا لَكُمْ إِنَّمَا اللهُ اللَّهُ وَاحِدٌ سُبْحَنَةَ أَن يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ لَهُ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَكَفَى بِاللهِ وَكِيلًا لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْد اللهِ وَلَا الْمَلَيكَةُ الْمُقَرَّبُونَ (النساء: 172-173) کہ (یاد رکھو) عیسی کا حال اللہ کے نزدیک یقینا آدم کے ط رض