اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 179 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 179

اصحاب بدر جلد 3 179 حضرت عمر بن خطاب قوموں نے بارہا ایسے ارادے کیے لیکن کبھی کامیاب نہیں ہوئیں۔اب تم جو ہو تمام دنیا میں تم سے زیادہ کوئی قوم جاہل نہیں ہے۔وحشی اور بے سازو سامان نہیں ہے، تمہیں یہ حوصلہ ہوا ہے کہ ہمارے پہ چڑھائی کر دو لیکن ہم اس پر بھی در گزر کرتے ہیں بلکہ اگر تم یہاں سے چلے جاؤ تو انعام کے طور پر سپہ سالار کو دس ہزار دینار اور افسروں کو ہزار ہزار اور عام سپاہیوں کو سو سو دینار دلا دیے جائیں گے۔حالانکہ ایک بہت بڑی فوج تو خود انہوں نے مسلمانوں کے خلاف جمع کی تھی کہ مسلمانوں کو ختم کیا جائے لیکن جب دیکھا کہ جنگ جیتنا آسان نہیں تو پھر یہ شرطیں لگائیں۔بہر حال باھان اپنی تقریر ختم کر چکا تو حضرت خالد اٹھے اور حمد و نعت کے بعد کہا کہ بے شبہ تم دولت مند ہو، مالدار ہو ، صاحب حکومت ہو۔تم نے اپنے ہمسایہ عربوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بھی ہمیں معلوم ہے لیکن یہ تمہارا کچھ احسان نہ تھا بلکہ اشاعت مذہب کی ایک تدبیر تھی۔تم اپنا مذہب پھیلانا چاہتے تھے جس کا یہ اثر ہوا کہ وہ عرب عیسائی ہو گئے اور آج خود ہمارے مقابلے میں تمہارے ساتھ ہو کر ہم سے لڑ رہے ہیں۔یہ سچ ہے کہ ہم نہایت محتاج، ننگ دست اور خانہ بدوش تھے۔ہمارے ظلم و جہالت کا یہ حال تھا کہ قوی جو مضبوط آدمی تھا وہ کمزور کو پیس ڈالتا تھا۔قبائل آپس میں لڑ لڑ کر برباد ہوتے جاتے تھے لیکن خدا نے ہم پر رحم کیا اور ایک پیغمبر بھیجا جو خود ہماری قوم سے تھا اور ہم میں سب سے زیادہ شریف، زیادہ فیاض، زیادہ پاک خو تھا۔اس نے ہمیں توحید سکھائی اور بتلا دیا کہ خدا کا کوئی شریک نہیں۔وہ بیوی اولاد نہیں رکھتا، وہ بالکل یکتا و یگانہ ہے۔اس نے ہمیں یہ بھی حکم دیا کہ ہم ان عقائد کو تمام دنیا کے سامنے پیش کریں جس نے ان کو مانا وہ مسلمان ہے اور ہمار ابھائی ہے۔جس نے نہ مانا لیکن جزیہ دینا قبول کرتا ہے اس کے ہم حامی اور محافظ ہیں۔جس کو دونوں سے انکار ہے اس کے لیے تلوار ہے۔جو نہیں مانتے اور پھر لڑائی کرنے کو بھی تیار ہیں تو پھر ہم بھی تیار ہیں۔باہان نے جزیہ کا نام سن کر ایک ٹھنڈی سانس بھری اور اپنے لشکر کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ مرکز بھی جزیہ نہ دیں گے۔ہم جزیہ لیتے ہیں دیتے نہیں۔غرض کوئی معاملہ طے نہیں ہوا اور خالد اٹھ کر چلے آئے۔اب اس آخری لڑائی کی تیاریاں شروع ہوئیں۔اس کے بعد رومی پھر کبھی سنبھل نہ سکے۔حضرت خالد کے چلے آنے کے بعد بابان نے سرداروں کو جمع کیا اور کہا کہ تم نے سنا، اہل عرب کا دعوی ہے کہ جب تک تم ان کی رعایا نہ بن جاؤ ان کے حملے سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔تمہیں ان کی غلامی منظور ہے ؟ تمام افسروں نے بڑے جوش سے کہا کہ ہم مر جائیں گے مگر یہ ذلت گوارا نہیں ہو سکتی۔جنگ پھر شروع ہوتی ہے صبح ہوئی تو رومی اس جوش اور سر و سامان سے نکلے کہ مسلمانوں کو بھی حیرت ہو گئی۔حضرت خالد نے یہ دیکھ کر عرب کے عام قاعدے کے خلاف نئے طور سے فوج آرائی کی۔جب حضرت خالد نے دیکھا کہ رومی اس جوش اور سر و سامان سے نکلے ہیں تو انہوں نے عرب کا جو عام قاعدہ تھا لڑائی کرنے کا اس کے