اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 171
اصحاب بدر جلد 3 171 312 حضرت عمر بن خطاب روایت کے مطابق انیس ہجری اور چوتھے قول کے مطابق بیس ہجری میں ہوئی۔بہر حال جس وقت حضرت ابو عبیدہ شمالی روم میں فاتحانہ پیش قدمی فرمارہے تھے حضرت عمر و بن عاص اور حضرت شرحبيل بن حَسَنَه روم کی ان فوجوں سے جنگ آزما تھے جو فلسطین میں جمع تھیں اور انہیں شکست دینے کی کوشش کر رہے تھے لیکن یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔یہ فوجیں کثرتِ تعداد اور سامان کے اعتبار سے بہت قوی تھیں اور ان کی قیادت روم کا سب سے بڑا سپہ سالار آظر نبون کر رہا تھا جس کی بعید النظری اور جنگی سوجھ بوجھ مملکت میں اپنا کوئی حریف نہ رکھتی تھی۔اس نے سوچا کہ فوج کو مختلف مقامات پر پھیلا دیا جائے تاکہ زمام اقتدار بھی تنہا اسی کے ہاتھ میں رہے اور اگر اس فوج کے کچھ حصوں پر عرب فتح بھی پائیں تو دوسرے حصے اس سے متاثر نہ ہوں۔چنانچہ اس نے رنکہ اور اسی طرح ایلیا پر ایک بھاری لشکر متعین کیا اور اس کی حمایت کے لیے غزہ، سَبَسْطِيَهِ، تَابُلُسْ، لت اور يَافًا میں فوجیں چھوڑ دیں۔اس کے بعد عربوں کی آمد کے انتظار میں بیٹھ گیا۔اسے یقین تھا کہ وہ عربوں پر فتح پانے اور ان کی قوتوں کو پراگندہ کرنے کی طاقت وقوت رکھتا ہے۔حضرت عمرو بن عاص نے موقع کی نزاکت کو محسوس کر لیا۔انہوں نے سوچا کہ اگر وہ اپنی تمام فوجوں کے ساتھ اظربون کے مقابلے میں صف آرا ہوتے ہیں تو رومی فوجیں ایک دوسرے سے مل جائیں گی اور وہ ان پر فتح یاب نہ ہو سکیں گے بلکہ ہو سکتا ہے کہ رومی ان پر فتح پالیں۔چنانچہ انہوں نے حضرت عمر کو خط لکھا تو آپ نے یزید بن ابو سفیان کو حکم دیا کہ اپنے بھائی معاویہ کو قیساریہ فتح کرنے بھیجو تا کہ بحری راستے سے آخر بون کو مددنہ پہنچ سکے۔حضرت عمر نے امیر معاویہ کے نام خط میں تحریر فرمایا کہ میں تمہیں قیساریہ کا امیر بناتا ہوں، وہاں جاؤ اور اس کے خلاف اللہ سے مدد طلب کرو اور لَا حَوْلَ وَلَا قُوَةً إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيم اور اللهُ رَبُّنَا وَثِقَتُنَا وَرَجَاؤُنَاوَ مَوْلَنَا نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ بکثرت پڑھو۔یعنی گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی طاقت صرف اللہ ہی کو ہے جو بہت بلندشان والا اور بہت عظمت والا ہے اور اللہ ہمارا رب ہے اور ہمارا بھر وسہ ہے اور وہ ہماری امید گاہ ہے۔وہ ہمارا مولیٰ ہے اور کیا ہی اچھا مولی اور کیا ہی اچھا مدد گار ہے۔الفاروق میں لکھا ہے کہ قیساریہ پر اول تیرہ ہجری میں عمرو بن عاص نے چڑھائی کی اور مدت تک محاصرہ کیے پڑے رہے لیکن فتح نہ ہو سکا۔ابو عبیدہ کی وفات کے بعد حضرت عمر نے یزید بن ابی سفیان کو ان کی جگہ مقرر کیا اور حکم دیا کہ قیساریہ کی مہم پر جاؤ۔یزید سترہ ہزار کی جمعیت کے ساتھ روانہ ہوئے اور شہر کا محاصرہ کیا لیکن اٹھارہ ہجری میں جب بیمار ہوئے تو اپنے بھائی امیر معاویہ کو اپنا قائم مقام مقرر کر کے دمشق چلے آئے۔وہیں ان کی وفات ہو گئی۔فَيْسَارِيه بحر شام کے ساحل پر واقع ہے اور فلسطین کے اضلاع میں شمار کیا جاتا ہے۔آج بہر حال یہ ویران پڑا ہے لیکن اس زمانے میں بہت بڑا شہر تھا اور بقول بلاذری کے تین سو بازار آباد تھے جس کی