اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 172
اصحاب بدر جلد 3 172 حضرت عمر بن خطاب حفاظت پر ایک بہت بڑا رومی لشکر متعین تھا۔یہاں ان کا ایک بہت مضبوط اور خطرناک سرحدی قلعہ تھا۔حضرت معاویہ نے قیساریہ پہنچ کر اس کا محاصرہ کر لیا۔رومی کبھی اسلامی فوج پر حملہ کرتے لیکن شکست کھا کر پھر اپنے مورچوں میں واپس ہو جاتے۔آخر کار جب محاصرہ طویل ہو گیا تو ایک دن مرنے مارنے کے ارادے سے نکلے لیکن شکست کھائی اور ایسی عبرت ناک شکست کھائی کہ میدانِ جنگ میں ان کے اتنی ہزار سپاہی مارے گئے اور یہ تعداد ہزیمت و فرار کے بعد ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔قیساریہ کی فتح اور اس کے لشکر کی تباہی کے بعد مسلمان اس طرف سے مطمئن اور محفوظ ہو گئے اور اس رستے سے رومیوں کو کمک کا سلسلہ رک گیا۔حضرت معاویہ نے مالِ غنیمت کے خمس کے ساتھ فتح کی خبر حضرت عمر کی خدمت میں بھجوائی۔ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ نے بڑے ساز و سامان سے محاصرہ کیا۔شہر والے کئی دفعہ قلعہ سے نکل نکل کر لڑے لیکن ہر دفعہ شکست کھائی تاہم شہر پر قبضہ نہ ہو سکا۔ایک دن ایک یہودی نے جس کا نام یوسف تھا، امیر معاویہ کے پاس آکر ایک سرنگ کا نشان دیا جو شہر کے اندر اندر قلعہ کے دروازے تک گئی تھی۔چنانچہ چند بہادروں نے اس راہ قلعہ کے اندر پہنچ کر دروازہ کھول دیا اور ساتھ اس راہ ہی تمام فوج ٹوٹ پڑی اور فتح حاصل کی۔حضرت عبادہ بن صامت جو بدری صحابہ میں سے ہیں وہ بھی اس جنگ میں شامل تھے۔ان کی بہادری کا واقعہ قیساریہ کی جنگ میں اس طرح ملتا ہے کہ قیساریہ کے محاصرے کے مقام پر حضرت عُبادہ بن صامت اسلامی فوج کے میمنہ کے قائد تھے۔آپ اپنی فوج کو نصیحت کرنے کھڑے ہوئے۔انہیں گناہوں سے بچنے اور اپنا محاسبہ کرنے کا حکم دیا۔پھر مجاہدین کا ایک ہجوم لے کر آگے بڑھے اور بہت سارے رومیوں کو قتل کیا لیکن اپنے مقصد میں اچھی طرح کامیاب نہ ہوئے۔دوبارہ اپنی جگہ واپس آئے، اپنے ساتھیوں کو لڑنے مرنے پر جوش دلایا اور اپنے ساتھ اتنا بڑا ہجوم لے کر حملہ کرنے کے بعد بھی نامر ادلوٹنے پر کافی حیرت اور تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ اے اسلام کے پاسبانو ! میں بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے نقباء میں سے یعنی نقیبوں میں سے کم عمر تھا لیکن مجھے سب سے لمبی عمر ملی۔اللہ نے میرے حق میں فیصلہ کیا کہ مجھے زندہ رکھا، یہاں تک کہ آج یہاں تمہارے ساتھ اس دشمن سے لڑ رہا ہوں۔قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے مومنوں کی جماعت لے کر جب بھی مشرکوں کی جماعت پر حملہ کیا تو انہوں نے ہمارے لیے میدان خالی کر دیا یعنی ہماری جیت ہوئی اور اللہ نے ان پر ہمیں فتح دی۔کیا بات ہے کہ تم نے ان پر حملہ کیا اور ان کو ہٹا نہ سکے۔پھر اس کے بارے میں آپ کو جو اندیشہ لاحق تھا اسے ان لفظوں میں بیان کیا کہ مجھے تمہارے بارے میں دو چیزوں کا اندیشہ ہے یا تو تم میں سے کوئی خائن ہے یا جب تم نے حملہ کیا تو مخلص نہیں تھے۔یا خائن ہو یا اس وقت اخلاص نہیں تھا جب حملہ کر رہے تھے۔اس کے بعد آپ نے انہیں صدق دل